ہومتازہ ترینچین نے بچوں اور خواتین کی سمگلنگ پر موثر طریقے سے قابو...

چین نے بچوں اور خواتین کی سمگلنگ پر موثر طریقے سے قابو پالیا

بیجنگ (شِنہوا) چین میں بچوں اور خواتین کے اغوا اور انسانی سمگلنگ کے جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اعلیٰ عوامی عدالت (ایس پی سی) نے جمعرات کو بتایا کہ 2012 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں 2025 میں ایسے جرائم میں 77.95 فیصد کمی آئی ۔

عدالت کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے جرائم پر موثر طریقے سے قابو پایا گیا ہے۔

ایس پی سی نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران چینی عدالتوں نے انسانی سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کئے۔ سمگلنگ میں براہ راست ملوث مجرموں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ عدالتیں ان لوگوں کو بھی سزا دیتی ہیں جو سمگل شدہ خواتین اور بچوں کو خریدتے ہیں تاکہ اس طلب کو ختم کیا جا سکے جو ایسے جرائم کو بڑھاتی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ جو لوگ متاثرین کو خریدنے کے بعد ان کے ساتھ زیادتی، جان بوجھ کر جسم پر زخم لگانے، غیر قانونی حراست یا بدسلوکی جیسے مزید جرائم کرتے ہیں، انہیں بھی قانون کے مطابق الگ سزائیں دی جاتی ہیں۔

ایس پی سی کے مطابق حکام نے انسانی سمگلنگ سے جڑے جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹس، نکاح ناموں، خاندانی رجسٹریشن کے کاغذات اور دیگر دستاویزات کے غیر قانونی اجرا کے خلاف بھی سخت کارروائی پر توجہ دی ہے۔

چینی معاشرے میں اغوا اور انسانی سمگلنگ کو طویل عرصے سے سب سے زیادہ نفرت انگیز جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔

ایک مشہور مقدمے میں یو ہوا ینگ نامی خاتون جو دو دہائیوں میں 17 بچوں کے اغوا اور سمگلنگ میں ملوث تھی، کو 2024 میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور 2025 میں اس سزا پر عملدرآمد کیا گیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں