اسلام آباد (لارڈ میڈیا) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹرویز پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے قانون توڑنے والی گاڑیوں کی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے این ایچ اے کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترامیم کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے ڈھانچے کی تیاری اور وزن کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر کی زیر صدارت ایک اجلاس میں این ایچ اے، موٹروے پولیس، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور وزیر نے قانونی و آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت دی۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے وزن کی نگرانی اور بھاری آرائشی سامان سے گریز کی ہدایت دی جائے۔ ٹرکوں پر زیادہ وزن ڈالنے والی فیکٹریوں کی نشاندہی کر کے جرمانے عائد کیے جائیں۔ مال بردار گاڑیوں کو لازمی وے اسٹیشنز سے گزارنے کی تجویز بھی دی گئی۔
عبدالعلیم خان نے وے اسٹیشنز کے نظام کو مکمل خودکار بنانے اور جی ٹی روڈز پر بھی وے اسٹیشنز قائم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے موٹرویز پر جدید کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ایکسل لوڈ کی 30 ہزار خلاف ورزیاں ہوئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کے جائزے کے لیے موٹرویز کے 10 مقامات کا خود دورہ کریں گے۔ سنگجانی میں بین الاقوامی معیار کا جدید ماڈل وے اسٹیشن بھی جلد مکمل ہوگا۔


