بیجنگ (شِنہوا) چین آئندہ 5 برسوں کے دوران عوامی قانونی تعلیم کو زیادہ ہدف اور باہمی روابط پر مبنی بنانے کے لئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بگ ڈیٹا سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کرے گا۔
چین کے قانونی تعلیم اور آگاہی کے 2026 سے 2030 تک کے 5 سالہ منصوبے کے تحت ملک بھر میں تاحیات قانونی تعلیم کو فروغ دیا جائے گا اور مختلف طبقات تک ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق رسائی کے نئے طریقے تلاش کئے جائیں گے تاکہ قانونی تعلیم کو لوگوں کی روزمرہ زندگی اور کام سے مزید قریب لایا جا سکے۔
وزارت انصاف کے قانونی آگاہی اور نظم و نسق بیورو کے ڈائریکٹر شو یون کائی نے منصوبے کے تعارف کے لئے منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزارت مختلف سرکاری اداروں، عدالتی اداروں اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے بگ ڈیٹا وسائل سے استفادہ کرے گی تاکہ مختلف طبقات کے لوگوں کی قانونی ضروریات اور حقوق سے متعلق خدشات کی نشاندہی کی جا سکے۔
شو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے قانونی تعلیم کا مواد تیار کیا جائے گا، اسے مخصوص گروہوں تک پہنچایا جائے گا اور حقیقی وقت میں باہمی رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی جس سے قانونی تعلیم زیادہ قابل رسائی اور دلچسپ بن جائے گی۔
کمیونسٹ یوتھ لیگ آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے ایک عہدیدار تانگ جے نے کہا کہ نوجوان افراد اس منصوبے کا ایک اہم مرکز ہوں گے۔ منصوبے میں نوجوانوں کے لئے قانونی تعلیم کو مضبوط بنانے اور ایک زیادہ جامع قانونی تعلیمی نظام تشکیل دینے پر زور دیا گیا ہے۔
حکام مصنوعی ذہانت، مختصر ویڈیوز اور دیگر ذرائع کو بھی استعمال کریں گے تاکہ نوجوانوں کے لئے قانونی تعلیم کو مزید پرکشش بنایا جا سکے۔
چین کی سائبر سپیس انتظامیہ کے ایک عہدیدار چھاؤ باؤ ڈونگ نے بتایا کہ 2026 سے 2030 کے دوران ملک کے سائبر سپیس حکام سائبر سپیس سے متعلق قوانین کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ کریں گے اور قانونی تعلیم کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا زیادہ وسیع استعمال کریں گے۔


