ہومتازہ ترینموگاؤ غاروں کو لازوال رکھنے کی کوشش

موگاؤ غاروں کو لازوال رکھنے کی کوشش

اسٹینڈ اپ (انگریزی): دو بائی یو، نمائندہ شِنہوا
’’چین کے شمال مغربی صوبہ گانسو میں واقع دُنہوانگ قدیم شاہراہِ ریشم کا ایک اہم مرکز تھا جس نےصدیوں تک جاری رہنے والی سرگرم تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے مشرق اور مغرب کو آپس میں جوڑے رکھا۔
دُنہوانگ کی منفرد ثقافت کی بہترین عکاسی اُن موگاؤ غاروں سے ہوتی ہے جن کی تاریخ چوتھی صدی عیسوی تک جاتی ہے۔ یہاں 735 غار ہیں جن میں 2 ہزار سے زائد رنگین مجسمے اور 45 ہزار مربع میٹر رقبے پر دیواری نقوش موجود ہیں۔
آئیے موگاؤ غاروں کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں جہاں قدیم تہذیبیں جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر شاہراہِ ریشم کی شان و شوکت کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): داویت نادریان، آرمینیا کے ماہرِ چینیات
’’چین ہمارے دل میں بستا ہے۔ ہم چین سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 : الحاج احمد خالد، تیونس کے ماہرِ چینیات
’’میں نے خود کو چین کی ثقافت، تاریخ، فلسفے اور تہذیب کے مطالعے کے لئے وقف کر رکھا ہے۔‘‘

سال 1980 کی دہائی سے دُنہوانگ اکیڈمی سے وابستہ نوادرات کے تحفظ کے ماہرین کی کئی نسلوں نے دیواری نقوش کی بحالی، ماحولیاتی بنیادوں پر ریت کے تدارک اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کے نام سے تحفظ کی تین اہم سطحیں قائم کیں۔ سائنسی بنیادوں پر تحفظ کی جدید ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرتے ہوئے انہوں نے ہزاروں برس پرانے فنون کے اس خزانے کی لازوال کشش کو محفوظ رکھا ہے۔

حصہ اول: دیواری نقوش کی بحالی
ہزاروں برسوں سے تیز ہواؤں اور شدید سردی کا سامنا کرنے والے ان قدیم دیواری نقوش کو نمکیاتی تہہ بننے، دھوئیں کے سیاہ داغ پڑنے اور اندر سے کھوکھلا ہونے جیسے مختلف مسائل درپیش ہیں۔ ان تاریخی آثار کی حفاظت کرنے والے ماہرین ثقافتی نوادرات کے ’’ڈاکٹروں‘‘کی طرح کام کرتے ہوئے متاثرہ دیواری نقوش کو اُن کی اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): شوئی بِی وِن، ڈپٹی ڈائریکٹر، تکنیکی خدمات مرکز برائے ثقافتی نوادرات، دُنہوانگ اکیڈمی
( آپ یہاں بحالی کے کس طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں؟)
’’ہم پلستر کی بنیادی تہہ کی مرمت کر رہے ہیں۔ متاثرہ پلستر کی بنیادی تہہ اس کے اوپر موجود دیواری نقوش کے ساختی استحکام کو متاثر کرتی ہےجبکہ چٹان کا نمایاں ہوجانے والا حصہ بھی دیواری نقوش کی خوبصورتی میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ اس مرمتی عمل کا مقصد پلستر کی ٹوٹی ہوئی بنیادی تہہ کو درست کرنا ہے۔
یہاں غاروں کی چھتوں پر سیاہ دھوئیں سے پیدا ہونے والی آلودگی ایک سنگین مسئلہ ہے۔‘‘
(اس وقت بحالی کا کام کس مرحلے میں ہے؟)
’’اس نصف حصے کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیاہے جبکہ دوسرے نصف حصے میں ابھی کام شروع نہیں ہوا۔‘‘
(یعنی ہم واضح فرق دیکھ سکتے ہیں؟)
’’جی بالکل۔
ہم نے پیشگی تحفظ کا ایک جامع نظام قائم کیا ہے جس میں ماحول کی باقاعدہ نگرانی اور روزمرہ دیکھ بھال کے معمولات شامل ہیں۔‘‘

حصہ دوم: ماحولیاتی بنیادوں پر ریت کا تدارک
ہزاروں برسوں سے تیز ہوائیں اور ریت موگاؤ غاروں کے لئےمسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ اس سے نہ صرف دیواری نقوش دھیرے دھیرے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ریت اور مٹی کی تہہ بھی جمع ہو رہی ہے۔
دُنہوانگ اکیڈمی نے ریت کو روکنے اور اسے مستحکم کرنے کے اقدامات پر مشتمل ایک مربوط تحفظاتی نظام قائم کیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے بنیادی طور پر ہواؤں سے رگڑ اور غاروں کے ریت میں دب جانے کے خطرات کو کم کیا جا رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): ژانگ ژینگ مو، ڈپٹی ڈائریکٹر، موگاؤ غار نگرانی مرکز، دُنہوانگ اکیڈمی
( کیا سارا سال ہوا اتنی ہی تیز رہتی ہے؟)
’’تقریباً ایسی ہی رہتی ہے، آج نسبتاً ہلکی ہے۔
ہم نے کام کی ابتدا موسمیاتی اسٹیشنز کے قیام سے کی۔ پھر ’اے‘ کی شکل کے ریت روکنے والے حصار بنائے۔ اس کے بعد بھوسے کے جال نما حصار، ریت روکنے والی باڑیں اور حفاظتی شجرکاری کی پٹیاں قائم کیں۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایک جامع حفاظتی نظام تشکیل دیتے ہیں جس سے غاروں کے سامنے ریت جمع ہونے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ نگرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غاروں کے علاقے میں ریت کی مقدار میں اب 80 فیصد سے زیادہ کمی آ گئی ہے۔‘‘

حصہ سوم: ڈیجیٹل آرکائیونگ
ثقافتی نوادرات کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصان سے نمٹنے کے لئے دُنہوانگ اکیڈمی ایک عرصے سے ڈیجیٹل تحفظ کے عمل کو فروغ دے رہی ہے۔ ہر دیواری نقش اور رنگین مجسمے کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے جس سے موگاؤ غاروں کو ایک دیرپا ڈیجیٹل زندگی مل رہی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): ڈِنگ شیاؤ شِنگ، ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈیجیٹلائزیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ برائے ثقافتی نوادرات، دُنہوانگ اکیڈمی
( کیا آپ آلات، ڈیجیٹلائزیشن کے موجودہ مرحلے اور اس کے استعمال کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟)
’’یہ دیواری نقوش کی موقع پر ڈیجیٹل اسکیننگ کا علاقہ ہے۔ آلات کے ذریعے ابتدائی ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد ہم کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے سرکاری معیارات کے مطابق اس کے معیار کی جانچ کرتے ہیں۔ اضافی کناروں کے ڈیٹا کو الگ کر دیا جاتا ہے جبکہ اعلیٰ معیار کے مرکزی حصوں کو جوڑ کر یکجا کیا جاتا ہے۔ ہر دیوار کی سطح کو 300 ڈی پی آئی ہائی ڈیفینیشن تصویری ڈیٹا میں تبدیل کیا جاتا ہے جس سے غاروں کے سارے علاقے کا مکمل معلوماتی ریکارڈ تیار ہو جاتا ہے۔‘‘

دُنہوانگ میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ماہرین نے نسل در نسل اس عالمی ثقافتی ورثے کی اہمیت اور بقا کے لئے پیشگی تحفظ سے لے کر ٹیکنالوجی پر مبنی جدت تک منظم اور جامع حل اختیار کئے ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی اور مسلسل لگن کے ذریعے وہ ہزاروں برس پرانی شاہراہِ ریشم کی تہذیب کو وقت کی قید سے آزاد رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے لازوال بنانے کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں