اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس امریکہ اور ایران کے درمیان مخاصمت میں ممکنہ اضافے کے حوالے سے فکرمند ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ ’’سیکرٹری جنرل کسی بھی نئے اقدام اور ایسے غیر ضروری بیانات پر فکرمند ہیں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہم توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں اور خوراک کی فراہمی میں خلل بھی مسلسل دیکھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا گوتریس کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی جانب سے ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کے حوالے سے خط موصول ہوا ہے۔
دوجارک نے بتایا کہ خط موصول ہو چکا ہے اور ایرانی درخواست کے مطابق اسے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ’’یہ تنازع اگرچہ اس وقت کسی حد تک منجمد فوجی مرحلے میں ہے لیکن پھر بھی خطے اور عالمی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ پائیدار حل تک پہنچنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں اور سیکرٹری جنرل قطر، مصر، پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو سیاسی حل تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز ایران کو ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کی دھمکی دیتے ہوئے ملک کے خلاف نئی پابندیوں کے ایک بڑے سلسلے کا اعلان کیا تھا۔


