چکوال (لارڈ میڈیا) 9 سالہ آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت کی تحقیقات میں پنجاب کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے کانسٹیبل کو قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کانسٹیبل نے اعلیٰ افسران کی اجازت کے بغیر گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔
واقعہ 10 اور 11 جون کی درمیانی شب چکوال میں سی سی ڈی تھانے کے باہر پیش آیا جہاں آسٹریلوی شہری عدیل احمد کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، جس سے ان کی 9 سالہ بیٹی ہانیہ جاں بحق ہو گئی جبکہ عدیل اور ان کا بیٹا زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق کانسٹیبل نے بیان دیا کہ اس نے دو مسلح افراد کو گاڑی لوٹتے دیکھا اور ان پر فائرنگ کی، تاہم ڈیوٹی افسر انسپکٹر جہانزیب خان نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کانسٹیبل کے فائرنگ کے دعوے کو حقائق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جائے وقوع سے پستول اور کلاشنکوف کے خول برآمد ہوئے اور 34 گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہانیہ اور دیگر زخمیوں کے خون کے نمونوں کی حتمی رپورٹ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے ابھی موصول نہیں ہوئی۔


