ہومتازہ ترینسینما چین اور مصر کے درمیان ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں...

سینما چین اور مصر کے درمیان ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں مددگار ہے، مصری اداکار

قاہرہ (شِنہوا) مصری اداکار شریف صوبحی نے کہا ہے کہ چینی فلم ” مشرق وسطیٰ کی ایک داستان” میں اداکاری کا ان کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سینما چین اور مصر کے درمیان قریبی ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

شِنہوا کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں صوبحی نے بتایا کہ کردار کے انتخاب سے قبل انہوں نے تقریباً تین مراحل میں آڈیشن دیا جس کے بعد انہیں زید کے کردار کے لئے منتخب کیا گیا۔ ان کے بقول یہ کردار انہیں پہلی ہی نظر میں متاثر کر گیا تھا۔

صوبحی نے کہا کہ وہ ایک انتہائی انسانی اور جیتا جاگتا کردار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی جنگ مخالف فلم کا سکرپٹ پڑھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ فلم اس لئے بھی توجہ حاصل کر رہی ہے کہ اس میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کی کہانی ایک چینی باورچی کی نظر سے بیان کی گئی ہے۔

فلم میں زید ابتدا میں ایک خاموش طبع ریسٹورنٹ کا مالک، اپنی اہلیہ سے محبت کرنے والا شوہر اور اپنے بچوں سے مخلص باپ ہوتا ہے۔ تاہم ایک دھماکے میں اس کی بیوی اور بیٹی کی ہلاکت کے بعد غم اور انتقام کی خواہش اس پر حاوی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دہشت گرد گروہ میں شامل ہو جاتا ہے۔

صوبحی نے کہا کہ انہوں نے زید کو فطری طور پر ایک پرتشدد شخص کے طور پر نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی پرورش کسی دہشت گرد گروہ میں نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی وہ ابتدا سے پرتشدد تھا۔ درحقیقت وہ ایک ہمدرد انسان تھا۔

چنانچہ اصل مسئلہ ایک ایسے عام انسان کی تکلیف دہ تبدیلی کو پیش کرنا تھا جس کا غم رفتہ رفتہ اس کی سابقہ شخصیت پر غالب آجاتا ہے۔ کردار کی تیاری کے لئے صوبحی نے خود کو ایک ایسے باپ کے طور پر تصور کیا جس سے اچانک اس کا خاندان چھین لیا گیا ہو۔

صوبحی نے کہا کہ اپنے خاندان کی موت کے بعد وہ تقریباً ایک روبوٹ کی طرح جذبات سے عاری ہو کر زندگی گزارنے اور رویہ اختیار کرنے لگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زید کے بہت سے جذبات اس کی آنکھوں کے ذریعے عیاں کئے گئے۔

مصری اداکار نے کہا کہ چینی ٹیم کے ساتھ کام کرنا بھی اس تجربے کا ایک یادگار حصہ تھا۔

انہوں نے چینی اور مصری فلم سازی کے انداز میں فرق محسوس کیا۔ ان کے مطابق چینی فلمی ٹیمیں ایک ہی منظر کو مکمل کرنے میں کئی گھنٹے صرف کر سکتی ہیں جبکہ ہدایت کار ہر شاٹ، زاویے اور اداکاری پر بھرپور توجہ دیتے ہیں۔

صوبحی نے شِنہوا کو بتایا کہ ایک منظر کی عکس بندی کے دوران ہدایت کار نے انہیں زید کے غم کی کیفیت میں ڈوبنے میں مدد دینے کے لئے منظر کی عکس بندی سے پہلے فلم کا ساؤنڈ ٹریک چلا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اداکار کی حیثیت سے میں واضح ہدایات اور رہنمائی کو واقعی سراہتا ہوں۔

تاہم صوبحی پر سب سے زیادہ اثر اس وقت ہوا جب فلم چینی سینما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میں چینی ناظرین کی جانب سے ملنے والے زبردست ردعمل کا کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

وہ ان چینی ناظرین کے پیغامات سے بہت متاثر ہوئے جنہوں نے زید کے کردار سے ہمدردی کا اظہار کیا اور اس شخص اور اس کے بعد بن جانے والی شخصیت کے درمیان فرق کو سمجھا۔

صوبحی نے کہا کہ وہ سمجھ گئے کہ یہ حقیقی زید نہیں تھا۔ اس کی بیوی اور بیٹی کی موت نے اسے بدل دیا تھا۔

ان کے نزدیک اس طرح کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف ثقافتی اور لسانی پس منظر رکھنے والے ناظرین بھی عالمگیر انسانی جذبات کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں