ہومتازہ ترینچین کا ایشیا بحرالکاہل کے غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لئے...

چین کا ایشیا بحرالکاہل کے غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لئے جدت کے ثمرات بانٹنے کا عزم

بیجنگ (شِنہوا) چین کے قومی ادارہ برائے خوراک و تزویراتی ذخائر نے کہا ہے کہ چین غذائی تحفظ میں جدت طرازی کے فوائد ایشیا بحرالکاہل کی معیشتوں اور ان کے عوام تک زیادہ وسیع اور منصفانہ انداز میں پہنچانے کو یقینی بنانے کے لئے جامع اشتراک کو فروغ دے گا۔

ادارے کے سربراہ لیو ہوان شن نے ایشیا بحرالکاہل کی معیشتوں کے مشترکہ تشویش کے موضوع یعنی غذائی تحفظ پر اپیک کے اعلیٰ سطح کے سرکاری و نجی شعبے کے مکالمے میں تجاویز پیش کیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اختیارات اور صلاحیتوں میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لیو ہوان شن نے کہا کہ چین خوراک کی سپلائی چین میں جدت کے وسیع پیمانے پر استعمال کو فروغ دے گا اور اس شعبے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور سمارٹ پراسیسنگ کے استعمال کو وسعت دے گا۔

لیو ہوان شن نے غذائی تحفظ کے شعبے میں کھلے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے لئے حکومتی، کاروباری، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان قریبی تعاون پر بھی زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ 14 ویں 5 سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین نے اناج کی اپنی مقامی منڈی کو مجموعی طور پر مستحکم رکھا اور خوراک کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید گہرا کیا جس سے ایشیا بحرالکاہل اور اس سے باہر غذائی تحفظ کے فروغ میں مدد ملی۔

لیو ہوان شن نے کہا کہ آئندہ 5 برسوں کے دوران چین اپنی مجموعی غذائی پیداوار کی صلاحیت میں مزید اضافہ کرے گا اور قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا۔

یہ مکالمہ جمعرات کو چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ کے ساحلی شہر دالیان میں منعقد ہوا جس میں اپیک کی معیشتوں کے حکومتی اداروں، کاروباری انجمنوں، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے تقریباً 150 نمائندوں نے شرکت کی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں