اسلام آباد (لارڈ میڈیا) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی پانچ سالہ سفارتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دور میں پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فروری 2026 میں قازق صدر کا پاکستان کا دورہ ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا اور اس دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
صدر نے کہا کہ سیاسی خیرسگالی کو تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ضروری ہے اور دوطرفہ تجارت کو دو سال میں ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ زراعت، توانائی، اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔
صدر مملکت نے قازقستان کی جانب سے پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کیلئے ایک ملین ڈالر گرانٹ اور گوجرانوالہ میں مصنوعی ذہانت مرکز کے قیام کا خیر مقدم کیا۔
قازق سفیر یرژان کستافن نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ریلوے رابطے کے قیام پر کام جاری ہے اور تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی، زراعت، آئی ٹی اور تعلیم کے شعبوں میں 6 ورکنگ گروپس فعال ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قازقستان پاکستانی پھلوں کے لیے ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔


