ہومانٹرنیشنلچینی جدیدیت ترقی کے لئے رہنمائی فراہم کررہی ہے، سینئر تاجک اہلکار

چینی جدیدیت ترقی کے لئے رہنمائی فراہم کررہی ہے، سینئر تاجک اہلکار

دوشنبے (شِنہوا) ایک سینئر تاجک سیاست دان نے کہا ہے کہ چینی جدیدیت نے مغربی ماڈل سے ہٹ کر ایک الگ راہ متعین کی ہے جو اپنے حالات کے مطابق جدیدیت کے راستے تلاش کرنے والے ترقی پذیر ممالک کے لئے قیمتی تجربہ فراہم کرتی ہے۔

تاجکستان کی حکمران جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اول نائب چیئرمین مالکشو نعمت زادہ نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کی قیادت میں چین نے سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا اور اپنے عالمی اثر و رسوخ کو مضبوط کیا ہے۔

نعمت زادہ نے واضح کیا کہ بالخصوص سی پی سی کی 18 ویں قومی کانگریس کے بعد سے چین نے جامع اصلاحات آگے بڑھائیں، بدعنوانی کے خلاف جنگ مزید تیز کی، حکومتی امور کی تبدیلی میں تیزی لائی، معاشی تنظیم نو پر مبنی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا اور جدت پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی فعال طور پر نافذ کی۔

ان کے مطابق ان اقدامات نے چینی معیشت کی پائیدار اور مستحکم ترقی کے لئے ایک پختہ بنیاد فراہم کی ہے، عظیم تر سماجی ہم آہنگی اور استحکام کو فروغ دیا اور عوام کا معیار زندگی مسلسل بہتر بنایا ہے۔

نعمت زادہ نے کہا کہ چین کا تجربہ پائیدار ترقی کے عزم، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح دینے اور باہمی فائدے پر مبنی بین الاقوامی تعاون کو فعال طور پر وسعت دینے سمیت دیگر پہلوؤں میں مضمر ہے۔

تاجک سیاست دان نے کہا کہ چین عوامی ترقیاتی فلسفے کے لئے پرعزم رہا ہے جو لوگوں کی فلاح و بہبود بہتر بنانے اور ترقی کی کامیابیوں سے ان میں اطمینان کا احساس پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر چین کے طویل المدتی سماجی استحکام اور عوام کے معیارِ زندگی میں مسلسل بہتری کی ایک اہم بنیاد بن چکا ہے اور اپنے ملک کو جدید بنانے کی کوشش کرنے والے دیگر ممالک کو قیمتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔

نعمت زادہ کے مطابق چینی جدیدیت کوئی تیار شدہ ایسا اسلوب نہیں جسے دیگر ممالک میں من و عن منتقل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا یہ حکمرانی کے اصولوں اور عملی تجربات کے ایسے نظام کی نمائندگی کرتا ہے، جسے ہر ملک کی خصوصیات کے مطابق آسانی سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ہر ملک کو اپنی تاریخ، ثقافت اور قومی حالات کی بنیاد پر اپنی خود مختاری برقرار رکھتے ہوئے عالمی معیشت میں فعال طور پر شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حقائق سے مطابقت رکھنے والا ترقیاتی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

نعمت زادہ نے شنگھائی تعاون تنظیم اور چین-وسطی ایشیا فریم ورک کے تحت تاجکستان اور چین کے درمیان مزید ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی حکمران جماعتوں کے درمیان تبادلوں اور باہم سیکھنے کے عمل کو گہرا کرنے کی امید ظاہر کی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں