چین کے مشرقی صوبہ جیانگسو میں واقع ایک یادگاری ہال کا کہنا ہے کہ رواں برس اسے موصول ہونے والے تاریخی مواد نے سال 1937 کے نانجنگ قتلِ عام کے دوران حملہ آور جاپانی فوجیوں کی جانب سے کئے گئے جنگی جرائم کے نئے شواہد فراہم کئے ہیں۔
جاپانی حملہ آوروں کے ہاتھوں نانجنگ قتلِ عام کے متاثرین کا یادگاری ہال جیانگسو کے دارالحکومت نانجنگ میں واقع ہے۔ یادگاری ہال نے ہفتہ کے روز بتایا کہ سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران اسے 150 سے زائد نوادرات اور تاریخی مواد کے مجموعے جبکہ 100 سے زائد محفوظ شدہ دستاویزات موصول ہوئیں۔ ہفتہ کے روز دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی 81ویں سالگرہ تھی۔
نئے حاصل کئے گئے مواد کا بہت سارا حصہ نوجوان طلبا نے عطیہ کیا ہے۔ اس مواد میں جاپانی فوجیوں کے ذاتی خطوط، میدانِ جنگ سے بھیجے گئے پوسٹ کارڈز، کیمیائی جنگ سے متعلق تربیتی مواد اور جنگ کے دوران شائع ہونے والے اخباری مواد کے مجموعے شامل ہیں۔
مواد میں جاپان کی شاہی فوج کی 16ویں ڈویژن کے ایشیکاوا نامی ایک فوجی کے اُن ذاتی خطوط کا مجموعہ بھی شامل ہے جو اس نے سال 1937 سے سال 1939 کے درمیان لکھے تھے۔نانجنگ کے سقوط کے ایک ہفتے بعد 20 دسمبر 1937 کو لکھے گئے ایک خط میں ایشیکاوا نے لکھا ’’چند روز قبل ہم نے 10 ہزار سے زائد شکست خوردہ فوجیوں کو قتل کیا‘‘۔ یہ خط گویا اس قتلِ عام کے موقع پر جرم کے مرتکب کی جانب سے قلم بند کیا گیا براہِ راست بیان ہے۔ اس بیان سے جاپانی فوج کی اسی ڈویژن میں شامل ایشیکاوا کے ساتھی فوجی ازوما شیرو کی ڈائری میں درج واقعات کی بھی تصدیق ہو گئی۔
عطیہ کردہ اشیا میں حملہ آور جاپانی افواج کی جانب سے زہریلی گیس کے جنگی استعمال کی منظم تربیت سے متعلق دو رہنما کتابچے بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ فرانس سے مارکس ڈیٹریز اور باسٹین راٹیٹ جبکہ چین سے ژونگ ہاؤسونگ نے بھی یادگاری ہال کو محفوظ تاریخی دستاویزات مشترکہ طور پر عطیہ کیں۔
عطیہ کئے گئے مواد میں چین پر جاپانی جارحیت سے متعلق فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی 861 صفحات پر مشتمل دستاویزات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جاپانی زبان میں شائع شدہ 50 سے زائد کتابیں اور دیگر مطبوعات بھی اس کا حصہ ہیں۔ ان مطبوعات میں جنگ کے دور کے تصویری رسائل اور محاذِ جنگ کے ریکارڈز بھی شامل ہیں۔
اس روز نانجنگ قتلِ عام کی تاریخی یاد کے وارثوں کے پانچویں گروپ کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ نئے ارکان میں دوہری امریکی اور کینیڈین شہریت رکھنے والی کارلی بریڈی اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے کرسٹوف رائن ہارڈٹ سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔
نانجنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


