دوسری عالمی انسان نما روبوٹ گیمز 22 اگست کو بیجنگ میں شروع ہوں گی۔
اس ایونٹ میں 16 ممالک سے 666 ٹیمیں اور 2056 روبوٹس حصہ لے رہے ہیں۔
رواں برس کے مقابلوں میں 30 سے زائد ایونٹس شامل ہوں گے۔ لانگ جمپ، ویٹ لفٹنگ، رسہ کشی اور ٹیبل ٹینس کو پہلی بار مقابلوں میں شامل کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی روبوٹ فٹ بال ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لئے الگورتھمز اور ہارڈویئر کو مزید بہتر بنانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): فلاویو ٹونی ڈانڈیل، سربراہ، روبوٹ فٹ بال ٹیم، برازیل
’’ہم برازیلی ہیں۔ اس لئےہم فٹ بال کو پسند کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ فٹ بال کیسے کھیلنا ہے۔ اس لئے میرے خیال میں ان تمام چیزوں کو ملا کر ہمیں اس ایونٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھانے کا اچھا موقع مل سکتا ہے۔
اس ایونٹ میں شرکت کا یہ ہمارا دوسرا سال ہے اور ہمارے پاس کافی تجربہ بھی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ کچھ مسائل ایسے ہیں جنہیں حل کرنے کا طریقہ ہمیں سیکھنا ہوگا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فٹ بال کھیلنے کے لئے روبوٹس کی رفتار اور لچک کو کیسے استعمال کیا جائے۔
یہاں ہمارے لئے اس قسم کے مسئلے کو حل کرنا ہی چیلنج ہے۔ اس کے بعد روبوٹس بہت اچھی طرح فٹ بال کھیل سکیں گے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ذاتی حکیم عزیزالحسن، سربراہ، روبوٹ فٹ بال ٹیم، ملائیشیا
’’ہم گزشتہ برس بھی یہاں آئے تھے۔ یہ ہماری دوسری بار شرکت ہے۔ ہم حیران ہوئے کیونکہ صرف ایک سال میں چین نے ایک بہتر روبوٹ تیار کر لیا ہے۔ اس وقت ہم دنیا کے جدید ترین انسان نما فٹ بال روبوٹ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
مقابلے کی رفتار بہت تیز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ چند برسوں میں ہم جلد ہی انسانوں کو روبوٹس کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھیں گے۔‘‘
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


