ہومتازہ تریناردن کے صحرا میں چین کے تعاون سے نئے توانائی منصوبے ماحول...

اردن کے صحرا میں چین کے تعاون سے نئے توانائی منصوبے ماحول دوست منتقلی کو تقویت دے رہے ہیں

چین کی نئی توانائی کی جدید زش ٹیکنالوجی اردن کے وافر ہوا اور شمسی وسائل سے فائدہ اٹھانے اور ملک کی ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کو آگے بڑھانے میں مدد دے رہی ہے۔

اردن کے معان گورنریٹ میں واقع شوبک ونڈ فارم چین کے ساتھ طویل مدتی تعاون کے ثمرات سے مستفید ہو رہا ہے۔

یہ منصوبہ سال2021 سے چائنہ تھری گورجز انٹرنیشنل کارپوریشن کے ذیلی ادارے ایشیا افریقہ گرین انرجی انویسٹمنٹ لمیٹڈ کی ملکیت اور اُسی کے زیر انتظام چل رہا ہے۔

44.5 میگاواٹ کی تنصیب شدہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ یہ ونڈ فارم ہر سال تقریباً 14کروڑ 50 لاکھ کلوواٹ آور صاف بجلی پیدا کرتا ہے۔

ایشیا افریقہ گرین انرجی انویسٹمنٹ کے مصر اور اردن کے علاقائی منیجر محمد ابو عطیہ نے کہا کہ چین کی ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی جدید ٹیکنالوجی نے شوبک منصوبے کی کارکردگی اور مستحکم آپریشن میں مدد دی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): محمد ابو عطیہ، علاقائی منیجر (مصر، اردن)، ایشیا افریقہ گرین انرجی انویسٹمنٹ لمیٹڈ
’’چینی ٹیکنالوجی نے اس منصوبے میں اضافی قدر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خود منصوبے کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مقامی اور چینی دونوں فریق اپنی اپنی مہارت کے ذریعے بہترین نتائج حاصل کر سکتے ہیں اور تمام پہلوؤں اور تصورات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کا مؤثر طریقۂ کار اختیار کر سکتے ہیں۔‘‘

ایشیا افریقہ کمپنی نے اردن بھر میں دو ونڈ فارمز اور پانچ فوٹو وولٹائک بجلی گھروں سمیت توانائی کے سات نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اور وہ انہیں چلا رہی ہے۔

یہ منصوبے اردن کے شمال سے جنوب تک تقریباً 436 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں جو ہر سال تقریباً 53 کروڑ کلوواٹ آور بجلی پیدا کرتے ہیں، ایک لاکھ 75 ہزار گھرانوں کو صاف توانائی فراہم کرتے ہیں جبکہ سالانہ 3 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور 8 لاکھ 50 ہزار ٹن پانی کی بچت کرتے ہیں۔

39 سالہ محمود الحمیدیہ اردن میں چین کے ذیلی ادارے کے تمام سات بجلی گھروں کے فیلڈ مینجمنٹ کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے لئے چینی کمپنی میں کام کرنے سے پیشہ ورانہ ترقی کے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): محمود الحمیدیہ، شوبک ونڈ فارم
’’چائنہ تھری گورجز ایک بین الاقوامی کمپنی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس نے مجھے مختلف نوعیت کے تجربات کرنے اور مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے ہیں۔
میں چین گیا تھا۔ میں نے یی چانگ میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کا دورہ کیا۔ یہ میرے لئے ایک بہترین موقع تھا۔ اس سے مجھے سیکھنے، مشاہدہ کرنے اور اپنے چینی ساتھیوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کا اچھا موقع ملا۔
وہاں ہمارے چینی ساتھیوں نے ہمیں چین میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ مثال کے طور پر اگر انہیں چین سے کوئی تجربہ حاصل ہوا ہو تو وہ ہمارے بہتر علم اور معلومات کے لئے اسے ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔‘‘

اردن نے صاف توانائی کے فروغ کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس وقت ملک کی مجموعی بجلی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ تقریباً 27 فیصد ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2035 تک اس حصے کو بڑھا کر 40 فیصد کر دیا جائے۔

عمان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں