میلبورن (شِنہوا) آسٹریلیا کے ایک کاروباری رہنما نے کہا ہے کہ چین کی نئی توانائی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعتوں کی تیز رفتار ترقی آسٹریلیا اور چین کے درمیان تعاون کے نئے شعبے کھول رہی ہے۔
آسٹریلیا۔چین بزنس کونسل کے قومی صدر رائس رابرٹس نے یہ بات میلبورن میں منعقدہ اقتصادی جائزہ اور مالیاتی منڈیوں کے سیمینار 2026 کے موقع پر شِنہوا کو ایک انٹرویو میں کہی۔ سیمینار کا اہتمام بینک آف چائنہ کی میلبورن برانچ نے کیا تھا۔
اس تقریب میں آسٹریلوی کاروباری برادری اور آسٹریلیا میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے تقریباً 100 نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے چینی اور عالمی معیشت کے مستقبل، چینی کرنسی رین من بی کی بین الاقوامی حیثیت اور آسٹریلیا۔چین اقتصادی و تجارتی تعلقات سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔
رابرٹس نے چین کو آسٹریلیا کا سب سے بڑا اور اہم ترین تجارتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کی اقتصادی ترقی، خاص طور پر ماحول دوست توانائی، قابل تجدید توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں پیشرفت آسٹریلیا کے لئے قابل تقلید ہے اور آسٹریلوی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحول دوست توانائی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم شعبہ رہے گی جبکہ چین اور آسٹریلیا کو ڈیٹا سنٹرز، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے دیگر شعبوں میں بھی تعاون کرنا چاہیے۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر لی گانگ سونگ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین ٹیکنالوجی حاصل کرنے والے ملک سے ٹیکنالوجی تیار کرنے والے ملک کی جانب بڑھ رہا ہے اور توانائی کی منتقلی، ڈیجیٹل تبدیلی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔
سونگ نے شِنہوا کو بتایا کہ رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران چین کی اقتصادی کارکردگی امید افزا رہی ہے جس سے ملک کے اندر اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔


