کونمنگ (شِنہوا) پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد چین میں تعلیم حاصل کرنے اور اس کی روایات اور ثقافت کو قریب سے جاننے کا انتخاب کر رہی ہے۔ ثقافتی مشاہدے پر مبنی دورے ان کے مطالعاتی دوروں کے لئے ایک مقبول انتخاب بن گئے ہیں، جس سے انہیں دقیانوسی تصورات کو توڑنے، چین پاکستان دوستی کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے۔
دو پاکستانی طلبہ نے حال ہی میں جنوب مغربی چین کے صوبہ یون نان کے دوروں میں چینی ثقافت کی حقیقی روایتی رنگا
رنگی کا تجربہ کیا اور چینی تہذیب کے منفرد حسن اور کشادہ دلی کا مشاہدہ کیا۔
کونمنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم پاکستانی طالب علم علی شاہد نے یی قومیت کے سب سے اہم اور روایتی تہوار مشعل میلے میں شرکت کے لئے شی لین یی خود مختار کاؤنٹی کا دورہ کیا۔ علی نے پر جوش انداز میں بتایا کہ یہاں یہ میرا پہلا موقع تھا اور میں بہت عرصے سے یہ جاننے کا خواہش مند تھا کہ یی قومیت کے لوگ اپنا اہم ترین تہوار کس طرح مناتے ہیں۔
دن کے وقت انہوں نے عالمی قدرتی ورثے کی جگہ سٹون فاریسٹ کی سیر کی، جہاں عجیب و غریب شکل کی چوٹیوں اور ناہموار چٹانوں سے مزین شاندار کارسٹ منظرنامے نے انہیں حیرت زدہ کر دیا۔ رات ڈھلتے ہی پوری کاؤنٹی ایک جشن کے رنگ میں ڈوب گئی۔ علی بھی لوگوں کے ہجوم میں شامل ہوگئے، جلتی ہوئی مشعلیں اٹھائیں اور لہراتی ہوئی شعلوں کی روشنی میں خوشگوار نسلی دھنوں پر رقص کیا۔

پاکستانی طالب علم ارسلان محمد (وسط)چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر چھوجنگ میں روایتی چینی خطاطی کا عملی تجربہ کرنے کے بعد مظاہرہ رہے ہیں۔ (شِنہوا)
علی شاہد نے کہا کہ آگ کے گرد سب کو رقص کرتے دیکھنا سب سے یادگار لمحہ تھا، مختلف قومیتوں اور ملکوں کے لوگ ایک ساتھ جمع تھے۔ ایک غیر ملکی ہونے کے باوجود میرا انتہائی گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔
علی قبل ازیں یون نان میں ’پانی چھڑکنے کا میلہ‘ دیکھنے کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے یہاں کی رنگا رنگ قومی روایات کے سحر میں مبتلا ہیں۔ ان کے نزدیک ہر قومیت کا روایتی تہوار چین کی کثیر الثقافتی جاذبیت کا ایک متحرک مظہر ہے جو چین میں متنوع اقوام کے باہمی اتحاد اور احترام کا ثبوت ہے۔
ایک طرف علی چین کی لوک ثقافت کا مشاہدہ کر رہے تھے تو دوسری جانب شنگھائی جیاؤ تونگ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ارسلان محمد نے چوجنگ میں منعقدہ پانچ روزہ تحقیقی و تعلیمی کیمپ کے ذریعے روایتی چینی ثقافت اور ماحولیاتی تہذیب کا گہرا مطالعہ کیا۔ یہ کیمپ آر سی ای پی بین الاقوامی یونیورسٹی سٹوڈنٹ سمر کیمپ 2026 کے تحت طب، ثقافت اور ماحولیات کے موضوع پر منعقد کیا گیا تھا۔

پاکستانی طالب علم ارسلان محمد چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر چھوجنگ میں روایتی چینی خطاطی کا تجربہ کر رہے ہیں۔ (شِنہوا)
ارسلان محمد نے چینی روایتی ثقافت سے متعلق مختلف سرگرمیوں کا بھرپور تجربہ کیا۔ انہوں نے روایتی چینی طب کے طریقہ علاج، جن میں موکسی بسشن اور روایتی چینی صحت افزا ورزش بادوانجن شامل ہیں، میں بھی عملی طور پر حصہ لیا۔ انہوں نے قدیم ثقافت کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے عجائب گھروں کی سیر کی، خطاطی کی مشق کے علاوہ کپڑوں کو گانٹھ دے کر رنگنے کی نایاب غیر مادی ثقافتی مہارت بھی سیکھی۔
روایتی چینی طریقہ علاج کے تجربے سے وہ بہت متاثر ہوئے، وہ طویل عرصے سے کمر کے نچلے حصے کے دائمی درد میں مبتلا تھے لیکن کیمپ کے دوران ماہرانہ چینی طریقہ علاج کے بعد انہوں نے نمایاں افاقہ محسوس کیا۔

پاکستانی طالب علم ارسلان محمد چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر چھوجنگ میں چینی تائی چی کا عملی مشق کر رہے ہیں۔ (شِنہوا)
انہوں نے بتایا کہ میں یون نان آنے سے پہلے روایتی چینی طب کے بارے میں صرف سوشل میڈیا اور کتابوں سے ہی جانتا تھا تاہم مجھے یہ دیکھ کر بے انتہا حیرت ہوئی کہ چینی طب نہ صرف علاج میں موثر ہے بلکہ یہ جسم متوازن رکھنے، صحت کی بحالی اور بیماریوں سے بچاؤ پر بھی توجہ دیتا ہے۔
چین میں کئی سال سے قیام پذیر ارسلان محمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر افواہوں اور منفی تاثرات سے ہٹ کر ایک بالکل مختلف چین دیکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین ایک ایسا ملک ہے جہاں قدیم ثقافت اور جدید ترین ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہیں۔ چینی عوام کا اخلاق اور مہمان نوازی یہاں میری زندگی کا سب سے زیادہ متاثر کن پہلو ہے۔
وہ پاکستان چین دیرینہ دوستی سے انتہائی متاثر ہوئے اور مزید کہا کہ مقامی لوگ پاکستانیوں کو محبت سے ’آئرن برادرز‘ کہہ کر پکارتے ہیں جس سے انہیں دلی اپنائیت اور عزت کا احساس ہوتا ہے۔
ثقافتی تبادلے کے مذکورہ تجربات نے دونوں پاکستانی نوجوانوں کو چینی ثقافت کی روح کو ذاتی طور پر محسوس کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے عزم کیا کہ وہ واپس جا کر سوشل میڈیا کے ذریعے چین کے یہ حقیقی تجربات اپنے ہم وطنوں تک پہنچائیں گے اور ایک ثقافتی سفیر کا کردار ادا کرتے ہوئے روایتی چینی ثقافت کا اصل حسن اجاگر کریں گے تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ روابط اور باہمی افہام و تفہیم کو مزید فروغ ملے۔


