واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مدد فراہم کرنے والے کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے سخت معاشی کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ بے مثال معاشی جنگ اور تنہائی ہوگی۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے معاہدہ کرنے کا موقع ضائع کردیا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ ختم ہوچکی ہے، اس کی فضائیہ تباہ کردی گئی ہے، فوجی فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور ایرانی کرنسی بے وقعت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ایک دھاگے سے لٹک رہا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ آج میں یہ بھی اعلان کر رہا ہوں کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی بہت سخت معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے خاص طور پر مالی اور تجارتی ذرائع کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو "اقتصادی ڈی ڈے” قرار دیتے ہوئے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ کا ساتھ دیں تاکہ ایران کو الگ تھلگ اور شکست دی جا سکے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف ایسے اقدامات کرے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
بیسنٹ نے 13 اگست کو کہا تھا کہ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے بینک اکاؤنٹس، کرپٹو والٹس اور دنیا بھر میں موجود اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایرانی حکومت کی قیادت اور خود حکومت کو ہونے والی ادائیگیاں روک دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے خلاف مالیاتی مہم تیز کر رہا ہے جو گزشتہ سال ٹرمپ کی جانب سے اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد شروع ہوئی تھی اور فروری میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی۔
امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز اور تنازع ختم کرنے کی شرائط پر اب بھی اختلافات کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مستقبل بھی غیر یقینی ہے کیونکہ مفاہمت کی ایک یادداشت کے تحت مذاکرات کے لئے 60 روز کی مقررہ مدت پیر کے روز ختم ہوگئی تھی۔


