ہومتازہ ترینچینی و فرانسیسی نوجوانوں نے دوسری جنگِ عظیم کا تاریخی مواد...

چینی و فرانسیسی نوجوانوں نے دوسری جنگِ عظیم کا تاریخی مواد یوننان کے عجائب گھر کو عطیہ کر دیا

دوسری عالمی جنگ کے دوران حملہ آور جاپانی فوجیوں کے جنگی جرائم سے متعلق نئے شواہد چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان کے شہر کونمنگ کے ایک عجائب گھر کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔

پیر کے روز فرانس سے تعلق رکھنے والے مارکس ڈیٹریز اور باسٹین راٹیٹ جبکہ چین سے تعلق رکھنے والے ژونگ ہاؤسونگ نے کونمنگ میں جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی جنگ کے فتح یادگاری ہال کو مشترکہ طور پر تاریخی دستاویزات عطیہ کیں۔

یہ دستاویزات فرانس کے نانت سفارتی آرکائیوز مرکز سے حاصل کی گئی اسکین شدہ نقول ہیں۔ ان میں سال 1938 سے سال1941 کے درمیان چین میں موجود فرانسیسی سفارتی اور فوجی اہلکاروں کی لکھی ہوئی رپورٹس شامل ہیں جو جنگ کے دوران یوننان کے حالات پر ایک غیر ملکی نقطۂ نظر پیش کرتی ہیں۔

ان محفوظ دستاویزات میں کونمنگ پر جاپانی فضائی حملوں کے علاوہ جاپانی جارحیت کے خلاف چین کی مزاحمت میں یوننان کے کردار اور نقل و حمل کے یوننان ویتنام راستے کی تزویراتی اہمیت بھی درج ہے۔

اس ریکارڈ میں جنگ کے دوران ایک اہم فضائی اڈے کے طور پر کونمنگ کے کردار کا بھی ذکر ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): باسٹین راٹیٹ، فرانسیسی نوجوان
’’ہر تاریخی دستاویز تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک طاقتور ثبوت ہے۔
تاریخی یادداشت کا تحفظ کبھی بھی صرف ایک فرد کی ذمہ داری نہیں ہوتا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سرحدوں کے پار جمع کئے گئے یہ تاریخی ریکارڈز دنیا بھر کے مزید نوجوانوں اور دوستوں کو اس بات کی ترغیب دیں گے کہ وہ تاریخ جمع کرنے، اسے دوسروں تک پہنچانے اور اسے محفوظ رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور امن کے فروغ کو تقویت دیں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ژونگ ہاؤسونگ، چینی نوجوان
’’ہم ان کوششوں کے ذریعے امید کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ تاریخی حقائق سے آگاہ ہوں گے اور ایسے سانحے کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے میں مدد کریں گے۔‘‘

کونمنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں