ہوماہم ترینقراقرم کے پار: دوستی کی شاہراہ کے 60 سال مکمل

قراقرم کے پار: دوستی کی شاہراہ کے 60 سال مکمل

ارمچی(شِنہوا) پامیر کے بلند و بالا سطح مرتفع سے گزرتی ہوئی قراقرم ہائی وے ایک طرف برف پوش گلیشیئرز سے گھری ہوئی ہے اور دوسری طرف روزمرہ زندگی کی رنگین دھڑکن سے جڑی ہوئی ہے۔ اس سال اس تاریخی شاہراہ کی تعمیر کے آغاز کو 60 برس مکمل ہو گئے ہیں۔
6 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس شاہراہ کی مضبوط بنیاد اور گرمجوشی کو نسل در نسل عام چینی اور پاکستانی لوگوں نے برقرار رکھا ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنی جوانیاں پہاڑوں کو کاٹ کر یہ شاہراہ بنانے میں صرف کیں، کچھ نے اپنی زندگیاں اس کی دیکھ بھال کے لئے وقف کر دیں، کچھ نے اس کے راستے میں روزگار کمایا، جبکہ کچھ نے اسی شاہراہ کے ذریعے دوستی اور رشتے قائم کئے۔ بے شمار چوٹیوں اور گھاٹیوں کو عبور کرنے والی یہ ’’آسمان کی شاہراہ‘‘ کبھی محض آمدورفت کا ایک سرد ذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ وقت کا ایک ایسا رشتہ ہے جس پر دونوں ممالک کے عوام کی محنت، قربانی اور گرمجوشی کے نقوش ثبت ہیں اور جو روزمرہ زندگی میں نسل در نسل منتقل ہونے والی پاک چین دوستی کی گواہی دیتی ہے۔

1966 میں پامیر سطح مرتفع کی گہری وادیوں اور برف پوش پہاڑوں نے بہادر ابتدائی کارکنوں کے ایک گروپ کا خیرمقدم کیا، جس نے خاموشی سے پاک چین دوستی کی شاہراہ کی تعمیر کا آغاز کیا۔ اس وقت صرف 22 سال کا جیانگ جیاشی سڑک بنانےوالے ان چینی کارکنوں میں شامل تھے جو اس منصوبے میں حصہ لینے پاکستان گئے تھے۔ آج 74 سال کی عمر میں بھی ان سالوں کو یاد کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں خلوص جھلکتا ہے۔ جیانگ نے کہا کہ ’’میری زندگی کی سب سے یادگار چیز اس شاہراہ کی تعمیر ہے۔‘‘

یہ سڑک بنانے کے ان مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا جو کبھی انجام دیئے گئے۔ سطح مرتفع پر 4 ہزار سے 5 ہزار میٹر کی بلندی پر نہ بڑی مشینری موجود تھی اور نہ ہی مناسب تعمیراتی مقامات، صرف سال بھر آنے والے برفانی طوفان، کاٹ کھانے والی سردی اور بار بار آنے والے کیچڑ کے تودے اور لینڈ سلائیڈنگ تھی۔ پورے 13 سال تک دونوں ممالک کے لوگوں نے مل کر ناقابل تصور زندگی اور موت کے چیلنجز کا مقابلہ کیا، کروڑوں مکعب میٹر مٹی اور چٹانیں ہٹائیں اور دنیا کے دشوار گزار ترین پہاڑی سلسلوں کے درمیان دونوں ملکوں کو ملانے والی ایک شاہراہ تعمیر کی۔

اس فلک بوس شاہراہ کی تعمیر دونوں ممالک کے عام لوگوں کی عظیم قربانیوں کی قیمت پر ممکن ہوئی۔ سطح مرتفع کے سخت ماحول اور بار بار آنے والی قدرتی آفات نے متعدد تعمیراتی کارکنوں کی جانیں لے لیں، جو ہمیشہ کے لئے ان پہاڑوں میں آسودہ خاک ہو گئے جن سے وہ محبت کرتے تھے۔ شہر گلگت میں واقع چینی شہداء کے قبرستان میں سڑک کی تعمیر کے 88 چینی بانی کارکنوں کی قبریں موجود ہیں۔ کئی دہائیوں سے مقامی پاکستانی باشندے رضاکارانہ طور پر اس مقام کی دیکھ بھال کرتے اور ہر سال بلا تعطل شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

مقامی پاکستانیوں کے دلوں میں یہ قبرستان اور یہ شاہراہ ہمسایہ ملک کی مدد اور مشترکہ تقدیر کی بہترین گواہی ہیں۔ جب شاہراہ قراقرم کو 1979 میں مکمل طور پر ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا تو اس نے پہاڑی رکاوٹوں کو توڑ کر رکھ دیا اور جو راستہ کبھی ایک دور دراز اور ناقابل رسائی افق تھا، اسے ایک عام راستے میں بدل دیا جس پر دونوں ممالک کے لوگ آسانی سے سفر کر سکتے ہیں۔

آج وہ سرحد پار کی لگن اور عزم نسل در نسل خاموشی سے منتقل ہو رہا ہے۔ 1995 کے بعد پیدا ہونے والے نوجوان یوآن شیاؤ کے پیشہ ورانہ انتخاب پر ان کے دادا کی سڑک سازی کی یادیں گہری طرح نقش ہیں۔ 60 سال قبل ان کے دادا اولین تعمیراتی کارکنوں میں شامل تھے اور انہوں نے کھڑی چٹانوں پر برسوں تک پتھر توڑے۔ سطح مرتفع کی منجمد برف کے پانی میں طویل عرصے تک کام کرنے کے باعث ان کے ہاتھ مستقل طور پر مڑ گئے اور وہ معذور ہو گئے۔ بوڑھے شخص کی سب سے قابل فخر کامیابی ذاتی طور پر اس شاہراہ کی تعمیر میں حصہ لینا تھی۔

دادا کی کہانیاں سن کر پروان چڑھنے والے یوآن شیاؤ کے دل میں بہادری اور مکمل لگن کا جذبہ نقش ہو گیا۔ 2023 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے شہر کی آرام دہ زندگی ترک کر دی اور پامیر سطح مرتفع کے سرحدی علاقے میں خدمات انجام دینے کے لئے رضاکارانہ طور پر آگے آئے۔ اب وہ روزانہ برف سے ڈھکی سرحد پر گشت کرتے اور شاہراہ کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے دادا کی میراث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یوآن کے نزدیک ان کے دادا کی نسل نے اپنے خون اور گوشت سے یہ راستہ تراشا، جبکہ ان کی نسل کو اپنی جوانی اور ثابت قدمی سے اس شاہراہ کی حفاظت کرنی ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مشکل سے حاصل ہونے والی دوستی کو محفوظ رکھنا ہے۔

سطح مرتفع پر میردان سیدارخان کا خاندان 3 نسلوں سے اس قیمتی شاہراہ کی حفاظت کر رہا ہے۔ ان کے چچا 1960 کی دہائی میں تعمیر کے اولین کارکنوں میں شامل تھے، جنہوں نے مشکل ترین سالوں کا سامنا کیا اور بیابان کو ایک گزرگاہ میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ ان کے والد نے بھی یہ مشن جاری رکھا اور پوری زندگی سطح مرتفع پر برف اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہر موسم میں شاہراہ کو کھلا رکھنے کے لئے کام کیا۔ اب میردان نے یہ ذمہ داری سنبھال لی ہے اور 4 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر شاہراہ کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

سطح مرتفع پر شاہراہ کی دیکھ بھال ایک نہ ختم ہونے والا چیلنج ہے۔ موسم سرما میں برف ایک میٹر سے زیادہ گہرائی تک جمع ہو سکتی ہے، جس سے برف سے ڈھکی سڑک تقریباً ناقابل عبور ہو جاتی ہے، جبکہ موسم گرما میں بارش بار بار کیچڑ کے تودے اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنتی ہے۔ 60 سال سے میر دان کا خاندان 3 نسلوں سے شہر کی ہنگامہ خیز زندگی سے دور گہرے پہاڑوں میں آباد ہے، شاہراہ کو اپنا گھر اور برف کو اپنا ساتھی سمجھتا ہے۔ سطح مرتفع کے بے شمار دیگر محافظوں کی طرح وہ بھی شہرت یا دولت کے خواہاں نہیں، بلکہ اپنی خاموش روزمرہ کوششوں سے اس دوستی کی شاہراہ کو ہمیشہ کھلا رکھتے ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کی آمدورفت کا سلسلہ کبھی نہ رکے۔

ہموار سڑک پہاڑوں اور سمندروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ دونوں قوموں کی زندگیوں کو بھی مضبوطی سے باہم مربوط کرتی ہے۔ بہت سے عام پاکستانیوں نے اس شاہراہ کے ساتھ اپنے گھر بار چھوڑ کر چین کے سرحدی شہر میں نئی زندگی اور نئی امیدیں تلاش کی ہیں۔ 2011 میں پاکستانی نوجوان کریم عنیم نے اسلام آباد کی ملازمت چھوڑ دی اور قراقرم ہائی وے کے راستے چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں واقع تاشقورغان تاجک خودمختار کاؤنٹی کا رخ کیا۔ اب انہیں اس سطح مرتفع کے علاقے میں رہتے ہوئے 15 سال ہو چکے ہیں۔

کبھی دور افتادہ اور الگ تھلگ رہنے والا یہ سرحدی شہر، شاہراہ کی بدولت بتدریج زیادہ مصروف ہو گیا ہے، جہاں سیاحوں اور تاجروں کی مسلسل آمد نے نئی رونق پیدا کر دی ہے۔ آج کریم اور ان کے کزن نے پاکستانی دستکاری کی منفرد مصنوعات فروخت کرنے والی مکمل غیر ملکی ملکیت کی ایک کمپنی قائم کر رکھی ہے، جس کے ذریعے وہ چینی عوام تک اپنے وطن کی خوبصورتی پہنچا رہے ہیں۔ یہاں 15 سالہ زندگی نے انہیں اس بات کا حقیقی احساس دلایا ہے کہ ہموار شاہراہ صرف جغرافیائی فاصلے ہی کم نہیں کرتی بلکہ چینی اور پاکستانی عوام کے دلوں اور جذبات کو بھی قریب لاتی ہے۔ یہاں انہیں اپنا گھر، اچھے ہمسائے اور اپنائیت کا احساس ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب آمدورفت بہت آسان ہے۔ میں صبح تاشقورغان کاؤنٹی سے بس لے سکتا ہوں اور دوپہر کو گھر واپس پہنچ سکتا ہوں۔ سیاحوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور یہاں لوگوں کی قوت خرید بھی کافی زیادہ ہے۔‘‘

پاکستانی ریسٹورنٹ کے مالک اسلم محمد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہ شاہراہ کس طرح روزگار کے مواقع پیدا کرتی اور دلوں کو جوڑتی ہے۔ 10سال قبل وہ قراقرم ہائی وے پر ٹرک ڈرائیور تھے اور برف پوش پہاڑوں اور وادیوں سے گزرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سامان پہنچاتے تھے۔ 10 سال بعد انہوں نے اسٹیئرنگ وہیل چھوڑ کر تاشقورغان کاؤنٹی میں پاکستانی ریسٹورنٹ کھول لیا۔

شاہراہ کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ سطح مرتفع پر سیاحت کو بھی فروغ ملا اور ان کا چھوٹا سا ریسٹورنٹ ہمیشہ گاہکوں سے بھرا رہتا ہے۔ چینی سیاح یہاں تصاویر بنوانے آتے ہیں، مقامی افراد کھانے کے لئے جمع ہوتے ہیں اور پاکستانی تاجر کاروبار پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا ریسٹورنٹ دونوں ممالک کے لوگوں کے لئے ملاقات کا ایک پرجوش مرکز بن گیا ہے۔ اسلم اکثر کہتے ہیں کہ ماضی میں وہ سامان پہنچانے کے لئے ٹرک چلاتے تھے، لیکن اب وہ لوگوں کو قریب لانے کے لئے ریسٹورنٹ چلاتے ہیں۔ شاہراہ بہتر ہوتی گئی، لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے گئے اور زندگی بھی بہتر ہوتی گئی۔

پاکستانی تاجر فرمان بیگ، جو طویل عرصے سے تعمیراتی سامان کی تجارت سے وابستہ ہیں، پاک چین دوستی کی کہانیوں کے سائے میں پروان چڑھے۔ بچپن میں انہوں نے چینی سڑک ساز کارکنوں کی بہادری کے قصے سنے اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ چینی تعمیراتی ٹیموں نے کس طرح پاکستانی دیہاتیوں کی آنکھوں کی بیماریوں کے علاج میں بے لوث مدد کی اور مقامی برادریوں کی معاونت کی۔ کئی دہائیوں سے وہ اسی دوستی کی شاہراہ کے ذریعے معیاری چینی تعمیراتی سامان پاکستان پہنچا کر اپنے وطن کی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ شاہراہ نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے بلکہ دونوں قوموں کے درمیان دیرپا خیرسگالی اور گرمجوشی کی علامت بھی ہے۔

پورے سال بندرگاہ کے کھلے رہنے سے سرحد پار تجارت مزید آسان ہو گئی ہے۔ چینی مشینری اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں پاکستان پہنچتی ہیں، جبکہ پاکستانی خصوصی پھل اور دستکاری کی مصنوعات چینی گھروں تک پہنچتی ہیں۔ عوامی سطح پر تبادلے مزید متنوع اور قریبی ہو گئے ہیں۔ خنجراب پورٹ کے کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 7 ماہ میں مال برداری کا حجم 2025 کے پورے سال کے مجموعی حجم سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ سالانہ مال برداری کا حجم ایک لاکھ ٹن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ شاہراہ قراقرم جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کو ملانے والا ایک آسان زمینی مرکز بن گئی ہے۔ بڑی مقدار میں پاکستانی سامان بندرگاہ کے ذریعے وسطی ایشیائی منڈیوں تک منتقل کیا جاتا ہے، جو علاقائی رابطوں اور باہمی مفادات کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت علاقائی اقتصادی انضمام کی ایک واضح مثال ہے۔

راہداری کے مزید ہموار ہونے اور باہمی تبادلوں میں اضافے کے ساتھ چین-پاکستان پورٹ کی بین الاقوامی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سنکیانگ کے خنجراب ایگزٹ- انٹری فرنٹیر انسپکشن سٹیشن کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 7 ماہ میں پورٹ سے 34 ہزار سے زائد کے سرحد پار سفری ریکارڈ کیا گیا جبکہ 7 ہزار 300 سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت ہوئی۔ 48 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے مسافر اس پورٹ سے گزر چکے ہیں، جس نے کبھی ایک دور افتادہ سرحدی گزرگاہ سے اب چین اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تبادلوں اور چین کے مغرب کی جانب کھلنے کی ایک اہم کھڑکی کی شکل اختیار کر لی ہے۔

اس سال چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مئی میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے چین کا سرکاری دورہ کیا۔ دورے میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے تزویراتی تعاون پر مبنی چین-پاکستان سدا بہار شراکت داری کو مزید گہرا کرنے، ’’سی پیک 2.0 کے اپ گریڈ شدہ ورژن‘‘ کی ترقی کو تیز کرنے اور پاک چین زمینی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لئے خنجراب پورٹ سے بھرپور استفادہ کرنے کے عزم کا واضح اظہار کیا۔

اس وقت 4 اہم منصوبوں پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے، جن میں خنجراب پورٹ کی منتقلی، سہولیات میں بہتری اور گنجائش میں اضافہ شامل ہیں، جبکہ ان منصوبوں میں مجموعی طور پر 45 کروڑ یوآن کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ سرحدی اقتصادی تعاون زون، بانڈڈ گوداموں اور کسٹمز نگرانی کے علاقوں جیسی معاون سہولیات کو بھی مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے، جس سے بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو دور کیا جا رہا ہے اور چین-پاکستان سرحد پار تجارت اور علاقائی تعاون کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کی جا رہی ہے۔

آج تقریباً 460 پاکستانی شہری تاشقورغان کاؤنٹی میں طویل عرصے سے مقیم ہیں اور تجارت، کھانے پینے کے کاروبار اور باہمی سرحدی تجارت سے وابستہ ہیں۔ چینی اور پاکستانی باشندے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، جبکہ یہ سرحدی شہر دوستی اور باہمی رابطوں کی ایک بین الاقوامی فضا پیش کرتا ہے۔ ایک شاہراہ نے پورے خطے کو نئی زندگی عطا کر دی ہے۔ شاہراہ قراقرم کے ذریعے لوگوں، سامان اور معلومات کی آمدورفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تاشقورغان کاؤنٹی کی سیاحت کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ کاؤنٹی میں اب 107 ہوٹل اور 640 قیام گاہیں موجود ہیں، جہاں 32 ہزار سے زیادہ بستر دستیاب ہیں، جبکہ سیاحت کے شعبے میں براہ راست تقریباً 6 ہزار افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔

تاشقورغان کاؤنٹی کے پارٹی سیکرٹری لی فینگ نے کہا کہ یہ شاہراہ ایک ایسی بہادر شاہراہ ہے جو تاریخ کی گواہ ہے، ایک کھلی شاہراہ ہے جو چین کو بیرونی دنیا سے جوڑتی ہے، خوشحالی کی ایسی شاہراہ ہے جو لوگوں کے روزگار اور زندگیوں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور دوستی کی ایسی شاہراہ ہے جو دلوں کو قریب لاتی ہے۔ مستقبل میں کاؤنٹی شاہراہ کے ذریعے اپنی جغرافیائی اور راہداری کی خصوصیات سے مزید فائدہ اٹھاتے ہوئے صنعتوں کو ترقی دے گی، سیاحت کو فروغ دے گی اور رابطوں کو بہتر بنائے گی تاکہ شاہراہ کی اقتصادی سرگرمی کو برقرار رکھا جا سکے اور چین اور پاکستان کے درمیان عوامی روابط، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے۔

چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے اس نئے نقطہ آغاز پر قراقرم کے پار یہ دوستی کی شاہراہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون کے وژن کو آگے لے جاتی رہے گی، دونوں قوموں کے درمیان گہری دوستی کو نسل در نسل منتقل کرتی رہے گی اور باہمی رابطوں، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بناتی رہے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں