ہومتازہ ترینچین میں مختلف ممالک کے ماہی گیروں کی مصنوعی چارے سے مچھلی...

چین میں مختلف ممالک کے ماہی گیروں کی مصنوعی چارے سے مچھلی پکڑنے کے مقابلے میں شرکت

چین کے شمال مشرقی صوبہ جی لِن کے شہر می حہ کھو میں پیر کے روز چین اور بیرون ملک سے تقریباً 180 ماہی گیر جمع ہوئے تاکہ دوسرے می حہ کھو انٹرنیشنل لیور فشنگ ٹورنامنٹ میں شریک ہو سکیں۔

چائنہ ری کریئیشنل اینگلنگ ایسوسی ایشن اور کوریا فشنگ ایسوسی ایشن کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اس دو روزہ مقابلے میں ٹیموں کی باری باری شرکت کا طریقہ کار اپنایا گیا۔ اس میں مقابلے کے شرکا باس اور کیٹ فش سمیت مختلف مقامی اقسام کی مچھلیوں کے شکار کی کوشش کرتے ہیں۔

روایتی طریقے سے مچھلی پکڑنے کے برعکس مصنوعی چارے کے ذریعے ماہی گیری کے اس طریقے میں مچھیروں کو مچھلی خود تلاش کرنا ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ پانی کی صورتحال کا جائزہ لیتے، زیرِ آب ساختوں کی نشاندہی کرتے اور مچھلیوں کے رویے کے مطابق حکمتِ عملی اپناتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ (چینی): لیو ہنگ یی، پیشہ ور ماہی گیر
’’ہم ایک ہی جگہ بیٹھ کر مچھلی کا انتظار کرنے کے بجائے اسے فعال طریقے سے خود تلاش کرتے ہیں۔ ہم پانی کے اندر موجود ساختوں کو تلاش کرتے، مچھلیوں کا مشاہدہ کرتے اور انہیں پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی مصنوعی چارے سے مچھلی پکڑنے کی اصل کشش ہے۔‘‘

مقابلے میں مچھلی پکڑ کر دوبارہ پانی میں چھوڑنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ مچھلیوں کو دوبارہ پانی میں چھوڑنے سے پہلے ان کا وزن کیا جاتا ہے اور ان کی تصدیق کی جاتی ہے۔

می حہ کھو اپنے آبی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاحت کے فروغ کے لئے مصنوعی چارے سے ماہی گیری اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔

چھانگ چھون، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں