ہومتازہ ترینکرغز ماہر نے چین اور کرغزستان کے درمیان تعاون کو ہمسائیگی کی...

کرغز ماہر نے چین اور کرغزستان کے درمیان تعاون کو ہمسائیگی کی عمدہ مثال قرار دے دیا

بشکیک (شِنہوا) کرغزستان کے ایک سیاسی ماہر نے کہا ہے کہ چین اور کرغزستان کے درمیان تعاون وسطی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ میں معاون ہے اور یہ اچھے ہمسایہ تعلقات کی ایک واضح مثال ہے۔
بشکیک میں کرغز انسٹی ٹیوٹ آف ورلڈ پولیٹکس کے ڈائریکٹر شیر دل بکتی گلوف نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں دونوں قوموں کے درمیان ’’طویل عرصے سے جاری باہمی روابط کی تاریخ‘‘ کی جانب اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’قدیم شاہراہ ریشم صرف ہماری مشترکہ تاریخ نہیں بلکہ اب یہ ہمارے روشن مستقبل میں باہمی تعاون کے لئے ایک مضبوط پلیٹ فارم بھی ہے۔ اس مشترکہ ماضی اور باہمی روابط کی طویل تاریخ کے ساتھ ہم ایک دوسرے کو بار بار نئے سرے سے دریافت کر رہے ہیں۔‘‘
اس سال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قیام کی 25 ویں اور کرغزستان کی آزادی کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر بکتی گلوف نے چینی صدر شی جن پھنگ کے کرغزستان کے آئندہ سرکاری دورے اور بشکیک میں رواں سال ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کو خصوصی اہمیت دی۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم غیر یقینی کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ صدر شی کا دورہ ہمیں نئی امید دے گا کہ ہمارا خطہ اور ہماری اقوام زیادہ پائیدار اور پرامن انداز میں ترقی کر سکتی ہیں اور ہم مشترکہ خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی ہمارا حتمی مقصد ہے۔‘‘
ماہر نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ شی جن پھنگ ایک ایسے ملک کی قیادت کر رہے ہیں جو نہ صرف اپنی تاریخ، رقبے اور آبادی کے لحاظ سے منفرد ہے بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط اور جدید چیلنجز کے حل کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کے اعتبار سے بھی منفرد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’چین مشترکہ حل پیش کرنے اور یہ دکھانے کے لئے کام کر رہا ہے کہ مسائل مل کر کیسے حل کئے جا سکتے ہیں اور وہ اس عمل میں دوسرے ممالک کو تعاون کی دعوت دے رہا ہے۔‘‘
چین کو ایک قابل اعتماد شراکت دار اور دوست قرار دیتے ہوئے بکتی گلوف نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مواقع کے حوالے سے چین کے پاس بہت کچھ پیش کرنے کو ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ضرورت مند ممالک کے ساتھ اپنے تجربات اور ٹیکنالوجیز فراخ دلی سے بانٹتا ہے۔
بکتی گلوف نے کہا کہ عوامی سطح پر تبادلے باہمی تفہیم کے لئے ایک اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں، انہوں نے مشترکہ آثار قدیمہ کے منصوبوں کو اس کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے تعاون سے مقامی محققین کو نئی مہارتیں حاصل کرنے میں مدد ملی ہے جبکہ مزید نوجوانوں کو آثار قدیمہ اور تاریخ کے مطالعے کی ترغیب بھی ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ شاہراہ ریشم کی روح کے دوبارہ جنم اور ہماری دوستی کے بتدریج پروان چڑھنے کی بات ہے۔‘‘

بکتی گلوف نے کرغز اور چینی محققین کی نئی نسل کے درمیان دیرپا روابط استوار کرنے میں مشترکہ تحقیق کے اہم کردار پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ان کی مادری زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن وہ ایک مشترکہ زبان بولتے ہیں یعنی سائنس کی زبان۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سائنس، ثقافت اور مشترکہ تحقیق تہذیبوں کے درمیان ’’نظر نہ آنے والے رشتے قائم کر رہی ہیں۔‘‘

بکتی گلوف نے کہا کہ باہمی تفہیم اور علم کے مشترکہ حصول کی یہی روح شنگھائی اسپرٹ میں بھی نظر آتی ہے، جس کے اصول مختلف تہذیبوں اور روایات میں گونجتے ہیں اور ان مشترکہ اقدار کی عکاسی کرتے ہیں جو طویل عرصے سے امن، اعتماد، تعاون اور انصاف کے لئے انسانیت کی خواہشات کی رہنمائی کرتی آئی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں