ہومتازہ تریننیتن یاہو نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی بالآخر مذمت...

نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی بالآخر مذمت کر دی

یروشلم (شِنہوا) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہفتے کے روز مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی بالآخر مذمت کرتے ہوئے فلسطینی دیہات قصرہ اور جلود میں ہونے والے حملوں کو ’’مجرمانہ‘‘ قرار دیا اور حکام پر زور دیا کہ ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے۔

نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ’’میں قصرہ اور جلود کے دیہات میں کئے گئے مجرمانہ پرتشدد اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے حملہ آوروں کو ’’مٹھی بھر ایسے شرپسند‘‘ قرار دیا جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ یہ حملے ’’اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت کو نقصان پہنچاتے ہیں‘‘ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں بھی خلل ڈالتے ہیں۔

یہ مذمت ہفتے کے روز مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں متعدد فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی۔

اطلاعات کے مطابق نقاب پوش درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے قصرہ پر دھاوا بولا اور متعدد فلسطینیوں کو زخمی کیا۔ یہ آبادکاروں کے تشدد کی تازہ لہر ہے۔

سماجی کارکن بشار القریوطی نے بتایا کہ قریب ہی واقع جلود میں آبادکاروں نے ایک فلسطینی خاندان اور غیر ملکی صحافیوں پر حملہ کیا، ان کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کی اور عملے کے ارکان کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

فلسطینی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق مغربی کنارے، جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا، میں تقریباً 34 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کے مطابق 2026 کے آغاز سے جولائی کے اواخر تک مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے 1,330 سے زائد حملے ہوئے، جن میں فلسطینیوں کو جانی یا ان کی املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ اوسطاً روزانہ چھ سے زیادہ واقعات بنتے ہیں۔

فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے باڑ و آبادکاری کی روک تھام کے کمیشن کے مطابق صرف جولائی میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف 2256 حملے کئے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں