بشکیک (شِنہوا) چین اور کرغزستان کا تعاون تیز رفتار ترقی کے ’’سنہری دور‘‘ میں داخل ہو چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چینی صدر شی جن پھنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس 2026 میں شرکت اور کرغزستان کے سرکاری دورے پر یہاں آمد کے موقع پر کیا۔
کرغزستان کے صدر سدیر جعفروف اور ان کی اہلیہ نے ماناس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صدر شی اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوآن کا استقبال کیا۔

کرغزستان کے صدر سدیر جعفروف اور ان کی اہلیہ ایگُل جعفروف ماناس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صدر شی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوآن کا استقبال کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
صدر شی نے ایک تحریری بیان میں چینی حکومت اور عوام کی طرف سے صدر سدیر جعفروف اور کرغزستان کے عوام کے لئے دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
چین اور کرغزستان کے درمیان دیرینہ روایتی دوستی کی نشاندہی کرتے ہوئے صدر شی نے کہا کہ عظیم الشان تیان شان کے پہاڑ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ہزاروں سال پر محیط دوستانہ تعلقات و تبادلوں کے شاہد ہیں۔
سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے گزرے 34 سالوں کے دوران چین اور کرغزستان کے تعلقات نے بدلتے بین الاقوامی حالات کی آزمائشوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا، ہر دور میں بہترین اور مستحکم ترقی کا تسلسل برقرار رکھا اور ایک نئے دور کی جامع تزویراتی شراکت داری کی بلند ترین سطح تک پہنچے ہیں۔
صدر شی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں باہمی تجارت کے حجم اور عوام کے درمیان رابطوں نے نئی بلندیوں کو چھوا جبکہ چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے سمیت اہم منصوبے کامیا بی سے عملی روپ دھار چکے ہیں اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کے ٹھوس نتائج نے دونوں ممالک کے عوام کو بڑے پیمانے پر مستفید کیا ہے۔

چینی صدر شی جن پھنگ کا شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس 2026 میں شرکت اور کرغزستان کے سرکاری دورے پر بشکیک پہنچنے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔(شِنہوا)
صدر شی نے کہا کہ دورے میں وہ صدر سدیر جعفروف کے ساتھ چین-کرغزستان تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے اور مشترکہ مستقبل کی حامل چین-کرغزستان برادری کی تعمیر کا نیا لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

چینی صدر شی جن پھنگ کا شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس 2026 میں شرکت اور کرغزستان کے سرکاری دورے پر بشکیک پہنچنے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔(شِنہوا)
صدر شی نے کہا کہ میں ایس سی او کے بشکیک سربراہی اجلاس میں شرکت کا منتظر ہوں تاکہ تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ایس سی او کے 25 سالہ ترقیاتی تجربے کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکے، تعاون کے منصوبوں پر مشترکہ تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم کا مستقبل تشکیل دیا جا سکے اور تنظیم کی مسلسل نئی پیشرفت آگے بڑھائی جا سکے۔


