چین کے مشرقی صوبہ فوجیان کے شہر فوژو میں ایک اسٹارٹ اپ کمپنی انسان نما روبوٹس تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی لاگت کم کرنے کے طریقے بھی تلاش کر رہی ہے۔
پانڈا نما روبوٹس سے لے کر اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجیز تک اس کمپنی کا مقصد زیادہ ذہین روبوٹس کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): لِن چی، بانی، فوجیان ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کمپنی لمیٹڈ
’’یہ ہمارا اپنا تیار کردہ پانڈا نما روبوٹ ’فُوژی‘ہے۔ یہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی کشش کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پانڈا کی ثقافتی اہمیت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو انسان نما روبوٹس کو قریب سے دیکھنے اور ان سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے جبکہ اس سےشہر کی ثقافتی سیاحت کو ٹیکنالوجی کی نئی جہت ملتی ہے۔‘‘
سال 2025 میں قائم ہونے والے فوجیان ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر نے مصنوعی ذہانت سے لیس متعدد روبوٹک مصنوعات تیار کی ہیں۔
انسان نما روبوٹس کی تیاری کے لئے اکثر بڑی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے تاہم کمپنی پیداواری لاگت کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): لِن چی، بانی، فوجیان ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کمپنی لمیٹڈ
’’ہمارے روبوٹس کے ساختی پرزے مکمل طور پر تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کئے جاتے ہیں۔ صرف اس اقدام سے ساختی پرزوں کی لاگت 50 فیصد سے زیادہ کم ہو جاتی ہے جو ہماری ہارڈویئر لاگت میں کمی کی بنیادی وجہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے مقامی طور پر تیار کردہ انتہائی کم لاگت جوائنٹ ماڈیولز کا انتخاب کیا ہے جس سے ہر جوائنٹ ماڈیول کی قیمت ہزاروں یوآن سے کم ہو کر چند سو یوآن رہ گئی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہمارا اپنا تیار کردہ بڑا ماڈل بیرونی لائسنسنگ کی لاگت کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ حتمی طور پر ہمارے روبوٹس ماڈیولر ڈیزائن پر مبنی ہیں۔ بڑے پیمانے پر پیداوار کے ذریعے ہم نے مجموعی لاگت کم کی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم روبوٹ کی قیمت تقریباً ایک اسمارٹ فون کے برابر رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘‘
فوژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


