بیجنگ (شِنہوا) آل چائنہ فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی جانب سے جاری کئے گئے ایک منصوبے کے مطابق چین 2030 تک کم از کم 30 لاکھ صنعتی کارکنوں کو مزید تعلیم حاصل کرنے اور اپنی مہارتیں بہتر بنانے کے لئے مالی معاونت فراہم کرے گا۔
15 ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کے عرصے پر محیط اس منصوبے میں صنعتی کارکنوں کے لئے مہارتوں کی ترقی کے نظام کو بہتر بنانے اور ان کی ہمہ جہت ترقی کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔
منصوبے میں ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے اہداف بھی مقرر کئے گئے ہیں۔ 2030 تک چین کا ہدف تقریباً ایک ہزار قومی سطح کے ماسٹر کاریگر، 5 ہزار صوبائی سطح کے ماسٹر کاریگر اور 25 ہزار شہری سطح کے ماسٹر کاریگر تیار کرنا ہے۔
منصوبے کے مطابق ماڈل ورکرز اور ماسٹر کاریگروں کے لئے اختراعی سٹوڈیوز کی مجموعی تعداد بھی 2030 تک ایک لاکھ 60 ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اپنے صنعتی شعبے کو جدید بنانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے میں جدید صنعتی نظام کی تعمیر کو نمایاں ترجیح دی گئی ہے۔
چین نے جدت پر مبنی اور طلب کے مطابق ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے ’’مادی اثاثوں اور انسانی سرمائے دونوں‘‘ میں سرمایہ کاری پر مبنی دوہری حکمت عملی بھی وضع کی ہے جس میں افرادی قوت کو ضروری صلاحیتوں سے لیس کرنے کے لئے پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت کو ایک اہم شعبہ قرار دیا گیا ہے۔
جمعرات کو جاری کئے گئے منصوبے میں تاحیات پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت کے نظام کو بہتر بنانے اور کارکنوں کو بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق اپنی مہارتیں ڈھالنے میں مدد دینے پر زور دیا گیا ہے۔ صنعتی کارکنوں کے لئے مہارتوں سے متعلق قومی سطح کا تعلیمی پلیٹ فارم تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ’’اے آئی پلس‘‘ تعلیم و تربیت کے پروگرام بھی شروع کئے جائیں گے۔


