گوانگ ژو (شِنہوا) چین کی بڑی بندرگاہوں پر چینی ساختہ برقی گاڑیاں مسلسل ایسے جہازوں پر لادی جا رہی ہیں جو دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ تاہم چین کی نئی توانائی والی گاڑیوں (این ای وی) کی صنعت کے لئے گاڑیوں کو برآمدی جہازوں پر لاد دینا اب آخری منزل نہیں بلکہ یہ عالمی توسیع کے سفر کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔
دنیا میں نئی توانائی والی گاڑیوں کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہونے کے ناطے چین عالمی تعاون کی اپنی حکمت عملی کو بہتر بنا رہا ہے۔ وہ صرف مصنوعات کی برآمد پر توجہ دینے کے بجائے مقامی سطح پر آپریشنز کو آگے بڑھانے، مقامی شراکت داری اور مشترکہ ترقی پر مبنی صنعتی نظام کے فروغ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
بہت سے ممالک کے لئے اس تبدیلی کا مطلب صرف کم قیمت برقی گاڑیوں کی دستیابی نہیں بلکہ نئی سرمایہ کاری، مقامی سطح پر روزگار کے مواقع اور ماحول دوست معیشت کی جانب تیز رفتار پیش رفت بھی ہے۔
چائنہ ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز (سی اے اے ایم) کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے 2025 میں 26 لاکھ 15 ہزار نئی توانائی والی گاڑیاں برآمد کیں، جو گزشتہ سال کی نسبت 103.7 فیصد زیادہ تھیں۔ جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں برآمدات 23 لاکھ 55 ہزار گاڑیوں تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 120 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ نئی توانائی والی گاڑیاں اب چین کی برآمدات میں اضافے کی ایک اہم محرک بن چکی ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چینی برقی گاڑیاں اب صرف کم قیمت متبادل کے طور پر نہیں دیکھی جاتیں بلکہ کارکردگی، ذہین فیچرز اور جدید ڈیزائن کے اعتبار سے بھی عالمی منڈی میں مضبوط مقابلہ کر رہی ہیں۔
ایکس پینگ موٹرز نے 2025 کے دوران بیرون ملک 45 ہزار سے زائد گاڑیاں فروخت کیں، جو گزشتہ سال کی نسبت 96 فیصد زیادہ ہیں۔ اس فروخت میں تقریباً نصف حصہ یورپی مارکیٹ کا تھا، جبکہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔ کمپنی نے مارچ 2026 میں ایک 3 سالہ منصوبہ متعارف کرایا جس کے تحت 2028 تک لاطینی امریکہ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
جی اے سی گروپ جو بیرون ملک منڈیوں کو اپنی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے، نے 2026 کی پہلی ششماہی میں اپنے برانڈز کے تحت ایک لاکھ 21 ہزار 500 گاڑیاں برآمد کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 132 فیصد زیادہ ہیں۔ کمپنی نے 2026 میں 2 لاکھ 50 ہزار اور 2030 تک 10 لاکھ گاڑیاں برآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ وہ اپنی موجودگی کو 120 ممالک اور خطوں تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔


