ریاض (لارڈ میڈیا): سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کے لئے مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ جدہ میں وزرا کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ پرامن حالات کے قیام کے لئے تمام ممکنہ کوششیں کی جائیں تاکہ علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق کابینہ کو آگاہ کیا۔
کابینہ نے سعودی عرب کی جانب سے شروع کیے گئے کثیرالقومی دفاعی بحری اتحاد میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حمایت اور شرکت کا خیرمقدم کیا۔ سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے ایک اتحاد قائم کیا ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق یہ اتحاد بحری سکیورٹی کو فروغ دینے اور بحری نقل و حمل اور عالمی تجارت کو نشانہ بنانے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایس پی اے کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد علاقائی و بین الاقوامی سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں مملکت کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے اور بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بڑھتے ہوئے خطرات سے بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد معاہدہ طے پانے کے امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی یادداشتِ التوا کے ناکام ہونے کے بعد اہم ہو گیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔


