تہران (لارڈ میڈیا): ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنے مؤقف میں نرمی کا عندیہ دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، ایران پہلی بار یورپی ممالک کو آبنائے ہرمز سے بحری بارودی سرنگیں ہٹانے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔
ایرانی ذرائع نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے تاکہ آئل ٹینکرز کی روانی بحال ہو سکے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ایران نے چند شرائط رکھی ہیں، جن میں یورپی بحری جہازوں کی سلامتی کی ضمانت اور آپریشن کا صرف تجارتی مقاصد تک محدود رہنا شامل ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ان شرائط پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا، لیکن مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ ایران نے پہلے کبھی غیر ملکی افواج کو آبنائے ہرمز میں کارروائی کی اجازت نہیں دی تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساتھ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔


