اسلام آباد (لارڈ میڈیا): فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے پہلے مہینے جولائی میں 810 ارب روپے ٹیکس جمع کیا ہے جو مقررہ ماہانہ ہدف سے 30 ارب روپے زائد ہیں۔ تاہم، گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عارضی اعدادوشمار کے مطابق، گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آر نے 757 ارب روپے جمع کیے تھے جبکہ رواں سال یہ رقم بڑھ کر 810 ارب روپے ہوگئی ہے۔ حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایف بی آر کے لیے مالی سال کا مجموعی ہدف 15.263 کھرب روپے مقرر کیا ہے، جس کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد اضافی وصولی ضروری ہوگی۔
آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کو ٹیکس ہدف کی تکمیل سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ صوبوں نے بھی دفاع اور آبی وسائل کے منصوبوں کے لیے ایک کھرب روپے سے زائد گرانٹس دینے کا وعدہ اسی شرط پر کیا ہے کہ ایف بی آر سالانہ ہدف حاصل کرے۔
اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں انکم ٹیکس کی وصولی 300 ارب روپے سے زائد رہی، تاہم یہ مقررہ ہدف سے 23 ارب روپے کم تھی۔ ماہرین کے مطابق جون میں پیشگی ٹیکس وصولیوں اور جائیداد و تنخواہ دار طبقے پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی بڑی وجوہات ہیں۔
دوسری جانب، سیلز ٹیکس کی وصولی 358 ارب روپے رہی، جو ہدف سے 53 ارب روپے زیادہ اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زائد ہے۔ مجموعی سیلز ٹیکس کا تقریباً 78 فیصد یعنی 275 ارب روپے درآمدی مرحلے پر وصول کیا گیا۔
وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی 48 ارب روپے رہی، جو معمولی طور پر ہدف سے زیادہ اور گزشتہ سال کے برابر ہے، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 105 ارب روپے وصول کیے گئے۔
مجموعی طور پر ایف بی آر نے 54 فیصد یعنی 440 ارب روپے سے زائد محصولات درآمدی مرحلے پر جمع کیے۔ جولائی کے دوران تقریباً 2 لاکھ 27 ہزار انکم ٹیکس گوشوارے بھی جمع کرائے گئے، جبکہ ایف بی آر نے 98 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 ارب روپے زیادہ ہیں۔
دریں اثنا ایف بی آر حکومت کو ان افراد پر خریداری کی پابندی لگانے پر آمادہ نہیں کر سکا جن کے ظاہر کردہ مالی وسائل مہنگی جائیداد، گاڑیاں یا دیگر سرمایہ کاری کے لیے ناکافی ہیں۔ وفاقی کابینہ نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 114C کو یکم جولائی 2026 سے نافذ کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔


