نیویارک (لارڈ میڈیا): امریکا کی ریاست نیویارک میں پہلی بار ٹِکس کے کاٹنے سے پھیلنے والے نایاب اور جان لیوا بوربن وائرس کے ایک مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خلاف نہ تو کوئی ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مخصوص علاج موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس طبی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
67 سالہ مائیکل لارکن، جو نیویارک کے سفوک کاؤنٹی میں کھلے ماحول میں کام کرتے تھے، کو دو لون اسٹار ٹِکس نے کاٹا، جس کے بعد وہ بوربن وائرس سے متاثر ہو گئے۔ ابتدا میں ڈاکٹروں نے انہیں لائم بیماری سمجھ کر اینٹی بایوٹک دوا دی، لیکن اس کا بوربن وائرس پر کوئی اثر نہ ہوا۔
غلط تشخیص کے باعث لارکن کو جسم پر سرخ دھبے، تیز بخار اور شدید سر درد جیسے علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پانچ روز تک اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا، جس کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر مریض اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔
امریکا میں اب تک کنساس، اوکلاہوما، میسوری اور نیویارک سمیت چند ریاستوں میں اس وائرس کے کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر لوئس مارکوس نے کہا ہے کہ یہ وائرس جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور لانگ آئی لینڈ میں لون اسٹار ٹِکس کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
بوربن وائرس پہلی بار 2014 میں امریکی ریاست کنساس کے بوربن کاؤنٹی میں سامنے آیا تھا۔ یہ وائرس ”تھوگوٹو وائرسز“ نامی گروپ سے تعلق رکھتا ہے اور متاثرہ لون اسٹار ٹِکس کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ وائرس کی بروقت شناخت کے لیے بہتر نگرانی، جدید تشخیصی ٹیسٹ اور ڈاکٹروں کے لیے واضح رہنما اصول تیار کرنا ضروری ہے۔ چونکہ ویکسین موجود نہیں، اس لیے ٹِکس کے کاٹنے سے بچنا ہی مؤثر حفاظتی طریقہ ہے۔


