تاریخ کے اوراق پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سلطنتیں صرف تلوار کی دھار پر قائم نہیں رہتیں اور نہ ہی تجارتی قافلے ہمیشہ اقتدار کی ضمانت بنتے ہیں۔ فاتحین گھوڑوں کی ٹاپوں کے ساتھ آتے ہیں، اپنے جھنڈے گاڑتے ہیں اور وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جاتے ہیں، مگر تہذیبیں خاموشی سے سفر کرتی ہیں۔ وہ کبھی کسی درویش کے قدموں سے چلتی ہیں، کبھی کسی شاعر کے شعر کا مرکزی خیال بن جاتی ہیں، کبھی کسی تاجر کے قافلے کے ساتھ سرحدیں عبور کرتی ہیں اور کبھی کسی مسافر کی یادوں میں نئی منزلیں تلاش کر لیتی ہیں۔ اسی لیے سکندرِ اعظم کی وسیع سلطنت تو تاریخ کے صفحات میں سمٹ گئی، مگر بخارا، سمرقند، کاشغر، ٹیکسلا، لاہور اور اصفہان آج بھی صرف شہر نہیں، بلکہ علم، محبت، روحانیت، تجارت اور تہذیب کے ایسے چراغ ہیں جن کی روشنی صدیوں بعد بھی انسانوں کے دلوں اور ذہنوں کو منور کر رہی ہے۔
آج اکیسویں صدی میں دنیا ایک بار پھر اسی سوال کے سامنے کھڑی ہے کہ کیا صرف معاشی منصوبے، تجارتی معاہدے اور شاہراہیں قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہیں؟ یا اس کے لیے دلوں جوڑنے کے لئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے ؟
شنگھائی تعاون تنظیم، جسے مختصراً ایس سی او کہا جاتا ہے، اب صرف ایک سکیورٹی یا اقتصادی فورم نہیں رہی۔ اس کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً چالیس فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چین، روس، پاکستان، ایران، بھارت اور وسط ایشیا کی ریاستیں مل کر انسانی تہذیب کے ایک ایسے خطے کی نمائندگی کرتی ہیں جہاں ہزاروں برس کی تاریخ، مختلف مذاہب، زبانیں، ثقافتیں اور علمی روایات ایک دوسرے سے ملتی رہی ہیں۔ اگر دنیا میں کسی خطے کے پاس تہذیبی طاقت موجود ہے تو وہ یہی خطہ ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی خطے کے لوگ ایک دوسرے سے سب سے کم واقف ہیں۔
چین کے صدر شی جن پھنگ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ”شنگھائی اسپرٹ ہمارا مشترکہ اثاثہ ہے اور ایس سی او ہمارا مشترکہ گھر۔ ہمیں شنگھائی اسپرٹ کی رہنمائی میں مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔“ اس ایک جملے میں ایس سی او کے پورے فلسفے کا خلاصہ موجود ہے۔ مشترکہ گھر صرف اینٹ، پتھر، سڑکوں اور تجارتی راہداریوں سے تعمیر نہیں ہوتے بلکہ انہیں اعتماد، باہمی احترام، ثقافتی تبادلوں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے جذبے سے آباد کیا جاتا ہے۔ اگر رکن ممالک واقعی اس تصور کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں تو اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ تہذیبی روابط، تعلیمی تبادلے، زبانوں کے درمیان پل اور عوامی سطح پر تعلقات کو بھی اسی اہمیت کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا، کیونکہ مضبوط خطوں کی بنیاد صرف مشترکہ مفادات پر نہیں بلکہ مشترکہ شناخت اور باہمی اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔
پاکستان کا ایک نوجوان ہالی وڈ کے درجنوں اداکاروں کے نام جانتا ہوگا، مگر شاید اسے کسی معروف ایرانی فلم ڈائریکٹر کا نام، کرغزستان کے کسی شاعر، قازقستان کے کسی ادیب یا ازبکستان کے کسی جدید مفکر کے بارے میں علم نہ ہو۔ اسی طرح وسط ایشیا یا مشرقی ایشیا کے لاکھوں نوجوان پاکستان کو صرف خبروں کی سرخیوں میں دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں پاکستان شاید صرف دہشت گردی، سیاست یا معاشی مشکلات کا عنوان ہو، جبکہ یہی ملک گندھارا تہذیب، ٹیکسلا، موہنجودڑو، صوفی روایت، کلاسیکی موسیقی، کھیلوں، نوجوان آبادی اور جدید ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کی کوششوں کا بھی مرکز ہے۔
یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔تقریباً ہر رکن ملک اپنے اصل تعارف سے محروم ہے۔وجہ یہ نہیں کہ ہمیں اپنی تہذیب کا ادراک نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے تہذیب کا تبادلہ محدود کر دیا ہے۔
آج اگر کوئی طالب علم اسلام آباد سے تاشقند، لاہور سے بشکیک، کراچی سے شی آن یا پشاور سے دوشنبے جا کر چند ماہ تعلیم حاصل کرے تو وہ صرف ایک ڈگری نہیں لے کر واپس آئے گا بلکہ ایک پورا معاشرہ سمجھ کر لوٹے گا۔
کلاس روم میں بننے والی دوستی اکثر سفارتی معاہدوں سے زیادہ مضبوط ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کامیاب علاقائی اتحادوں نے طلبہ کے تبادلے کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔
وہیں زبان بھی ایک بڑی دیوار ہے۔ہم ایک دوسرے کی شاعری نہیں پڑھتے، ایک دوسرے کی کہانیاں نہیں جانتے، ایک دوسرے کی تحقیق تک رسائی نہیں رکھتے۔ اگر اردو، فارسی، چینی، روسی، ازبک، قازق اور دیگر زبانوں کے ادب اور علمی کام ایک دوسرے کی زبانوں میں باقاعدگی سے منتقل ہونے لگیں تو شاید ہمارے درمیان موجود بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو جائیں۔ ترجمہ صرف لفظوں کی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبوں کا تعارف ہوتا ہے۔
اسی طرح میڈیا کو بھی اپنے کردار پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں کسی ملک کا ذکر زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب وہاں جنگ ہو، دہشت گردی ہو، سرحدی کشیدگی ہو یا کوئی سفارتی بحران پیدا ہو۔ میڈیا نے قوموں کا تعارف ان کے بحرانوں سے کرانا شروع کر دیا ہے، ان کی ثقافت، فن، سائنس، تعلیم اور عام انسانوں کی زندگی سے نہیں۔ اگر علاقائی میڈیا مشترکہ دستاویزی فلمیں، تحقیقی پروگرام، ثقافتی سیریز اور نوجوانوں کی کامیابیوں پر مبنی پروگرام بنائے تو شاید عوام ایک دوسرے کو سرکاری بیانات سے زیادہ اچھی طرح سمجھ سکیں۔
پاکستان کے لیے یہاں ایک غیر معمولی موقع موجود ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی اور تاریخی اعتبار سے بھی پاکستان مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، وسط ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہو یا قدیم شاہراہِ ریشم، ٹیکسلا ہو یا گندھارا، بابا بلھے شاہ ہوں یا رحمان بابا، ہمارے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ثقافتی سفارت کاری کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں جتنی اقتصادی سفارت کاری کو دیتے ہیں۔
آج دنیا میں طاقت کا تصور بھی بدل رہا ہے۔ صرف فوجی طاقت یا معاشی طاقت ہی فیصلہ کن نہیں رہی بلکہ نرم طاقت یا سافٹ پاور بھی بین الاقوامی تعلقات میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ جاپان نے اپنی ثقافت سے دنیا کو متاثر کیا، جنوبی کوریا نے موسیقی اور فلموں کے ذریعے اپنی شناخت بنائی، چین نے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس، زبان اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے اپنا اثر بڑھایا۔ پاکستان بھی اگر اپنی تہذیب، ادب، سیاحت، موسیقی، تحقیق اور میڈیا کو ایک منظم حکمت عملی کے تحت دنیا کے سامنے پیش کرے تو اس کی عالمی شناخت کہیں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
آخرکار ہر شاہراہ انسانوں کو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہے، لیکن ہر تہذیب انسان کو دوسرے انسان کے قریب لے جاتی ہے۔
اگر ہم صرف سڑکیں، بندرگاہیں، ریلویز اور تجارتی راہداریاں بنائیں گے تو سامان ضرور سفر کرے گا، مگر اگر ہم زبانوں، ثقافتوں، جامعات، میڈیا، ادب اور نوجوانوں کے درمیان رابطے پیدا کریں گے تو خیالات سفر کریں گے، اعتماد پیدا ہوگا اور وہ امن جنم لے گا جسے کوئی معاہدہ تنہا قائم نہیں کر سکتا۔
شاہراہِ ریشم نے کبھی صرف ریشم نہیں پہنچایا تھا، اس نے علم، فلسفہ، مذاہب، موسیقی، فنِ تعمیر اور تہذیبوں کو بھی ایک دوسرے سے متعارف کروایا تھا۔ اگر آج کا ایشیا واقعی اپنے مشترکہ مستقبل کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے تو اسے نئی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ دلوں کے درمیان بھی راستے بنانے ہوں گے، کیونکہ مضبوط خطے صرف معاشی مفادات سے نہیں بلکہ مشترکہ تہذیبی شعور اور باہمی اعتماد سے وجود میں آتے ہیں۔


