ہومتازہ ترینچین میں پہلی ششماہی کے دوران اشیائے صرف تبادلہ پروگراموں کے ذریعے...

چین میں پہلی ششماہی کے دوران اشیائے صرف تبادلہ پروگراموں کے ذریعے 11 کھرب یوآن کی فروخت

بیجنگ (شِنہوا) چین میں اشیائے صرف تبادلہ پروگراموں کے تحت 2026 کی پہلی ششماہی میں 11 کھرب یوآن (تقریباً 161.9 ارب امریکی ڈالر)کی فروخت ہوئی، جس سے 15 کروڑ صارفین مستفید ہوئے۔

مجموعی فروخت میں 37 لاکھ 7 ہزار گاڑیوں کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ گھریلو برقی آلات کی 6 کروڑ 32 لاکھ 66 ہزار یونٹس تبدیل کی گئیں۔ اسی دوران ڈیجیٹل اور سمارٹ مصنوعات کی 7 کروڑ 90 لاکھ 98 ہزار یونٹس خریدی گئیں۔

حکومتی پالیسیوں کے باعث ماحول دوست مصنوعات، خصوصاً نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ صارفین زیادہ توانائی بچانے والی اور ماحول دوست مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جون میں سبسڈی کے تحت گاڑیوں کی فروخت کا حصہ بڑھ کر 65.4 فیصد ہو گیا، جس کے نتیجے میں دوسری سہ ماہی کے دوران نئی توانائی والی گاڑیوں کی مارکیٹ میں رسائی کی شرح ریکارڈ 62.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

اس دوران سمارٹ مصنوعات کی خریداری میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ پہلی ششماہی میں ڈیجیٹل اور سمارٹ مصنوعات کی فروخت کا حجم گزشتہ سال کی نسبت 13.4 فیصد بڑھا، جبکہ صرف جون میں یہ اضافہ 32 فیصد رہا۔ سمارٹ چشمے ایک نئی مقبول مصنوعات کے طور پر سامنے آئے، جن کی فروخت جون میں 30.6 فیصد بڑھ گئی۔

2026 کے اشیائے صرف تبادلہ پروگرام کے تحت مقامی حکومتوں کو سبسڈی سکیمیں ترتیب دینے میں زیادہ گنجائش دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر جیانگسو اور شنگھائی نے اپنی سبسڈی سکیموں میں مجسم ذہانت سے لیس روبوٹس کو بھی شامل کیا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکے۔

چین نے 2024 میں اشیائے صرف تبادلہ کے وسیع پروگرام کے تحت سبسڈی کا آغاز کیا تھا، جس میں گاڑیوں، سمارٹ فونز اور گھریلو برقی آلات سمیت مختلف مصنوعات شامل ہیں۔ اس اقدام نے مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور ملکی طلب میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حکام نے اعلان کیا ہے کہ 2026 میں بھی اشیائے صرف تبادلہ پروگرام کے تحت خریداری کے لئے سبسڈی پروگرام جاری رکھا جائے گا، جس کے لئے 250 ارب یوآن مالیت کے انتہائی طویل المدتی خصوصی سرکاری بانڈز مختص کئے جائیں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں