ہومانٹرنیشنلامریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی روک دی

امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی روک دی

بوسٹن (لارڈ میڈیا): امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو عارضی طور پر ان پالیسیوں پر عمل درآمد سے روک دیا ہے جن کے تحت ہزاروں پناہ گزینوں اور ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس رکھنے والے تارکین وطن کے ورک پرمٹ ختم کیے جانے تھے۔ جج نیتھنیئل گورٹن نے تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور مزدور یونینوں کی درخواست پر یہ عبوری حکم جاری کیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ امریکی شہریت و امیگریشن سروس نے کانگریس کی جانب سے منظور شدہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے لیے ایسی پالیسیاں نافذ کیں جو قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ عدالت نے یہ عبوری پابندی جاری کی ہے اور مزید فیصلہ 5 اگست تک متوقع ہے۔

ریپبلکن اکثریت والی کانگریس نے جولائی 2025 میں منظور شدہ قانون کے تحت پناہ کی درخواست دینے والوں پر فیس عائد کی تھی اور TPS رکھنے والے افراد کے ورک پرمٹ سے متعلق نئی پابندیاں بھی شامل کی گئی تھیں۔

ٹی پی ایس کے تحت جنگ، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ ممالک کے شہری عارضی طور پر امریکا میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت حاصل کرتے ہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی کے نتیجے میں ایل سلواڈور، سوڈان اور یوکرین سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد اپنے روزگار سے محروم ہو سکتے تھے۔

عدالت نے حکومت کو نئی فیس وصول کرنے سے نہیں روکا، تاہم یہ واضح کیا کہ صرف فیس ادا نہ کرنے کی بنیاد پر کسی شخص کا ورک پرمٹ منسوخ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی تادیبی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

Authors

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں