بیجنگ (شِنہوا) تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی انتظامیہ نے چینی مین لینڈ کے معروف موٹر سائیکل ساز ادارے زیڈ ایکس موٹو کو جزیرے میں اپنا شوروم کھولنے کی اجازت دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے، یوں اس نے مقامی موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے اس برانڈ کو متعارف کرانے کے پرجوش مطالبات کو نظر انداز کر دیا ہے۔
ڈی پی پی حکام نے قانونی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مین لینڈ میں تیار ہونےوالی موٹر سائیکلیں تائیوان درآمد کرنے پر پابندی ہے اور متنبہ کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم یہ موقف آبنائے تائیوان کے دونوں جانب تبادلوں اور تعاون بڑھانے کے عمومی رجحان کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔
چھونگ چھنگ میں 2024 میں قائم ہونے والی کمپنی ’زیڈ ایکس موٹو‘ نے تائیوان میں خاصی توجہ حاصل کی ہے جس کی بڑی وجہ اس کی 820آر آر-آر ایس ریسنگ بائیک کا شاندار ریکارڈ ہے۔ اس ماڈل نے رواں سال سپر بائیک ورلڈ چیمپئن شپ میں متعدد بار پہلی پوزیشن حاصل کی جو ایسے مقابلوں میں کسی بھی چینی موٹر سائیکل تیار کرنے والی کمپنی کے لئے ایک تاریخی کارنامہ اور برانڈ کے معیار و کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔
تائیوان بھر میں موٹر سائیکل کے شوقین افراد اور نامور میڈیا مبصرین نے اس برانڈ کی بھرپور ستائش کی اور اس کی موٹر سائیکلوں کو مقامی مارکیٹ میں لانے کی پرزور حمایت کی ہے جہاں ہر 100 باشندوں میں موٹر سائیکل کی ملکیت کی شرح تقریباً 62 ہے۔ اس کے باوجود ڈی پی پی حکام نے ان آوازوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا اور جزیرے پر مین لینڈ کے موٹر سائیکل برانڈز کی فروخت اور سرمایہ کاری پر پابندی برقرار رکھی ہے۔
یہ انکار صریحاً امتیازی سلوک اور دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف جزیرے پر جاپان اور یورپ کے موٹر سائیکل برانڈز آسانی سے دستیاب ہیں، وہیں ڈی پی پی حکام آزاد منڈی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے چینی مین لینڈ کے مناسب قیمت اور اعلیٰ معیار والے متبادل موٹر سائیکل ماڈلز کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔


