تہران (شِنہوا) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ حال ہی میں دستخط کئے جانےوالے امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی وقعت یا قانونی حیثیت نہیں۔
انہوں نے یہ بات ایرانی عوام کے نام اپنے ایک پیغام میں کہی، جسے ایرانی میڈیا نے نشر کیا اور جس میں انہوں نے ملک کے اہم معاملات پر اظہار خیال کیا۔
خامنہ ای نے کہا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 18 جون کو دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی امریکہ کی جانب سے بار بار خلاف ورزی نے "ایک بار پھر سب پر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کس قدر بے وقعت اور غیر معتبر ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے "ایک مرتبہ پھر اپنا حقیقی اور بے نقاب چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "جرائم اور وعدہ خلافی کا یہ تلخ تجربہ امریکہ کے جھوٹ، غیر منطقی، ناقابل اعتماد اور شرپسندانہ رویے کا ایک اور مضبوط ثبوت ہے۔”
خامنہ ای نے متنبہ کیا کہ اگر امریکہ جنگجویانہ پالیسی جاری رکھتا ہے اور ایران پر مزید بھاری قیمت مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے ایران اور مزاحمتی محاذ کی جانب سے "ناقابل فراموش سبق” سیکھنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔


