ہوہوت (شِنہوا) چین کی چراگاہوں میں حالیہ برسوں میں مسلسل ماحولیاتی بہتری دیکھی گئی ہے اور چراگاہوں کے ماحولیاتی نظام کی فعالیت اور پیداواری صلاحیت دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چین کے شمالی اندرونی منگولیا خود مختار علاقے کے دارالحکومت ہوہوت میں چراگاہوں اور چرواہوں کےعالمی سال کی ایک تقریب میں جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صحت مند اور نیم صحت مند چراگاہوں کا رقبہ اب 18 کروڑ ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے، جو ملک کی مجموعی چراگاہوں کے رقبے کا تقریباً 70 فیصد ہے۔
چراگاہوں کے رقبے کے لحاظ سے چین دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جس کی وسیع سرزمین پر تقریباً 26 کروڑ 70لاکھ ہیکٹر پر پھیلی چراگاہیں موجود ہیں۔
ملک نے گزشتہ برسوں کے دوران ان ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ اور بحالی کے لئے کوششوں کو تیز کیا ہے، بڑے ماحولیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کیا ہے، چراگاہوں کے وسائل پر نگرانی کو مضبوط کیا ہے اور پائیدار گلہ بانی کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کے لئے سبسڈی اور انعامی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں۔
14ویں 5سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین نے ہر سال اوسطاً 30 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ خراب چراگاہوں کو بحال کیا، جبکہ سالانہ 66 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ چراگاہوں پر چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کے حملوں کی روک تھام اور کنٹرول کیا۔ اس مدت کے دوران تازہ گھاس کی سالانہ پیداوار 60 کروڑ ٹن سے تجاوز کر گئی، جو چراگاہوں کی پیداواری صلاحیت کی مسلسل بحالی کی عکاس ہے۔
ملک کے جنگلات اور چراگاہوں کے حکام نے کہا ہے کہ 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران چین چراگاہوں کے گورننس سسٹم کو بہتر بنانے اور ان کے انتظام کی صلاحیت کو بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔


