اسلام آباد (لارڈ میڈیا): تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر بلوچستان، آزاد کشمیر اور ملکی سکیورٹی صورتحال پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے زیارت واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں ایسے واقعات کے بعد وزرا استعفے دے دیتے ہیں۔
انہیں آزاد کشمیر جانے سے روکا گیا، وہ اپنے کشمیری بھائیوں سے بات کرنا چاہتے تھے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ مسائل کا حل سیاسی ڈائیلاگ میں ہے اور سیاست میں برداشت کی گنجائش ہونی چاہیے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں سیاسی و سکیورٹی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔


