اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے ایک مندوب نے یوکرین تنازع میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال تشویش ناک رخ اختیار کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فریقین پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدت، بڑے پیمانے اور وسیع دائرہ کار کے ساتھ بار بار فوجی حملے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی ہوئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین شہریوں کے خلاف ہر قسم کے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شہریوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانا فوری طور پر بند کریں۔
سن لی نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "حالیہ دنوں میں فریقین فوجی تصادم اور انتقامی کارروائیوں کے ایک ایسے بھیانک چکر میں پھنس چکے ہیں جو نہ صرف شہریوں کے لئے شدید مصائب کا باعث بن رہا ہے، بلکہ اس سے نفرت کو مزید ہوا مل رہی ہے اور تنازعات میں شدت آ رہی ہے، جس کے باعث امن مذاکرات کا راستہ مزید کٹھن اور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔”


