بیجنگ (شِنہوا) چین کے ثقافتی شعبے میں ابھرتے ہوئے نئے کاروباری ماڈلز نے 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی ثقافتی شعبے کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار ترقی کی جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صنعت کی ترقی میں نئے کاروبار کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔
قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 82 ہزار بڑے ثقافتی اداروں نے سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 72 کھرب یوآن (تقریباً 10.6کھرب امریکی ڈالر) کی کاروباری آمدنی حاصل کی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.6 فیصد زیادہ ہے۔
ان میں سے ثقافتی کاروبار کی نئی طرز سے متعلق 16 ذیلی شعبوں نے 35.2 کھرب یوآن کی کاروباری آمدنی حاصل کی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.6 فیصد زیادہ ہے۔ یہ شرح بڑے ثقافتی اداروں کی مجموعی ترقی کی شرح سے 5 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی۔
صنعتی لحاظ سے دیکھا جائے تو ثقافتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ترقی کا بنیادی ذریعہ رہے، جن کی کاروباری آمدنی 8.1 فیصد اضافے کے ساتھ 43.2 کھرب یوآن تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب ثقافتی پیداواری آمدنی 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 17.9 کھرب یوآن رہی جبکہ ثقافتی تھوک اور پرچون کاروبار کی آمدنی 0.1 فیصد کم ہو کر 10.9 کھرب یوآن رہ گئی۔
اہم شعبوں میں خبری اور معلوماتی خدمات اور تخلیقی ڈیزائن خدمات دونوں کی آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ثقافتی سرمایہ کاری اور آپریشن کے شعبے نے 10 فیصد اضافے کے ساتھ سب سے تیز رفتار ترقی کی جبکہ مواد کی تخلیق اور پیداوار کے شعبے کی آمدنی میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا۔
قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق بڑے ثقافتی اداروں نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی طور پر 574.7 ارب یوآن کا منافع حاصل کیا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7.5 فیصد کم ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ چین کی ثقافتی صنعت مضبوط اور لچکدار ثابت ہو رہی ہے۔ نئے کاروباری ماڈلز نہ صرف مجموعی منڈی سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں بلکہ ملک میں ترقی کے نئے محرکات پیدا کرنے اور ثقافتی شعبے کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے کی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔


