بیجنگ (شِنہوا) چین کے بنیادی طبی بیمہ پروگرام میں 2026 کے دوران شمولیت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 40 لاکھ سے زائد نئے افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے۔
قومی طبی تحفظ انتظامیہ (این ایچ ایس اے) کے عہدیدار ژانگ چھینگ گوانگ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بنیادی طبی بیمہ میں شمولیت کی شرح 95 فیصد پر مستحکم رہی۔
انہوں نے کہا کہ شمولیت میں یہ اضافہ بیمہ کی کوریج بڑھانے کے لئے کئے گئے مختلف اقدامات کا نتیجہ ہے، جن میں بڑے شہروں میں آزاد روزگار سے وابستہ افراد کے لئے رہائش یا ملازمت کی جگہ پر بنیادی طبی بیمہ حاصل کرنے کی غرض سے گھریلو رجسٹریشن کی شرائط نرم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
حکام نے مختلف صوبوں کے درمیان بنیادی طبی بیمہ کے ذاتی اکاؤنٹس کے مشترکہ استعمال کا نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت میاں بیوی، بچے، والدین اور دیگر قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کے اکاؤنٹ میں موجود رقم استعمال کر سکتے ہیں۔
چین نے اپنے طبی تحفظ کے نظام کو بھی مزید وسعت دی ہے۔ مارچ میں حکومت نے طویل مدتی نگہداشت بیمہ سے متعلق نئے قواعد جاری کئے، جن کے تحت ایسے بیمہ یافتہ افراد جو روزمرہ کی معمول کی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر ہوں، انہیں باقاعدہ ذاتی نگہداشت اور نرسنگ خدمات فراہم کی جائیں گی اور اہل اخراجات کی ادائیگی بیمہ کے ذریعے کی جائے گی۔
این ایچ ایس اے کی ایک اور عہدیدار لیو جوان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ طویل مدتی نگہداشت بیمہ سکیم اس وقت 32 کروڑ افراد کا احاطہ کر رہی ہے جبکہ 50 ہزار سے زائد مصدقہ نگہداشت کارکنوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔
زچگی بیمہ کے حوالے سے پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 20 صوبائی سطح کے علاقوں نے ایسی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں جن کے تحت آزاد روزگار سے وابستہ افراد، نقل مکانی کرنے والے کارکن اور روزگار کی نئی اقسام سے وابستہ افراد ملازمین طبی بیمہ کے ساتھ زچگی بیمہ میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران 28صوبائی سطح کے علاقوں نے ہسپتال میں بچے کی پیدائش کے دوران مریض کی جیب سے براہ راست ادائیگی ختم کرنے کے اقدامات کئے ہیں۔ لیو جوان نے بتایا کہ 2025 میں زچگی بیمہ کے تحت 48 لاکھ 10 ہزار مرتبہ ادائیگیاں کی گئیں جبکہ بیمہ یافتہ خواتین کو اوسطاً تقریباً 30 ہزار یوآن (تقریباً 4 ہزار 400 امریکی ڈالر) زچگی الاؤنس ملا۔
ادویات کی قومی طبی بیمہ فہرست کا تازہ ترین ایڈیشن یکم جنوری سے نافذ العمل ہے۔ پریس کانفرنس کے مطابق جنوری سے مئی کے دوران نئی شامل کی گئی ادویات ایک کروڑ 22 لاکھ 50 ہزار علاجوں میں استعمال ہوئیں۔
طبی بیمہ فنڈ نے نئی شامل کی گئی ادویات کی مد میں 2 ارب 64 کروڑ یوآن ادا کئے، جس سے ان ادویات کی مجموعی فروخت 3 ارب 90 کروڑ یوآن سے تجاوز کر گئی۔
چین نے ادویات اور طبی استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو منظم کرنے کے لئے ملک گیر مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔


