ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): جون شیاؤ، چھونگ چھنگ میں زیرِ تعلیم برازیل کا طالبعلم
’’ہیلو دوستو! میں جون شیاؤ ہوں اور اس وقت چھونگ چھنگ کے مرکز جیفانگ بے میں موجود ہوں۔ یہ ہے چین کے سب سے منفرد اور مستقبل نما شہر کی ایک جھلک۔ فلک بوس عمارتیں، نیون روشنیاں اور تاریخی ورثہ سب ایک ہی جگہ پر موجود ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں کس قدر گہما گہمی ہے۔ واقعی بہت زیادہ۔ میرے اردگرد سینکڑوں لوگ موجود ہیں جن میں سیاح، مقامی شہری اور طلبہ شامل ہیں۔ ذرا یہ منظر دیکھئے۔ پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر الگ ہے۔ پیدل راہداریاں، انڈر پاسز اور واضح ٹریفک اشارے موجود ہیں۔ سڑک عبور کرتے وقت آپ کو موٹر سائیکلوں سے بچنے کی فکر نہیں ہوتی۔ پورا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ آپ اطمینان اور سکون کے ساتھ آمدورفت کر سکیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جون شیاؤ، چھونگ چھنگ میں زیرِ تعلیم برازیل کا طالبعلم
’’مجھے تھوڑی بھوک محسوس ہوئی تھی اس لئے میں بایِی فوڈ اسٹریٹ آ گیا ہوں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ مستقبل کے اس شہر کا کھانا کیسا ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جون شیاؤ، چھونگ چھنگ میں زیرِ تعلیم برازیل کا طالبعلم
’’اگرچہ مجھے چینی زبان زیادہ نہیں آتی۔اس کے باوجود یہاں کھانا آرڈر کرنا بالکل آسان ہے۔ اور ادائیگی؟ وہ تو اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ صرف تین سیکنڈ لگتے ہیں۔ نہ نقد رقم اور سکوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی بقایا رقم کا انتظار ۔ بس کیو آر کوڈ اسکین کریں۔ آپ اپنی گھڑی کے ذریعے بھی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب میرے لئے بٹوہ گُم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ میں بٹوہ ساتھ رکھتاہی نہیں۔ اور میں آپ کو دکھاتا ہوں کہ چینی زبان کم جاننے والا کوئی غیر ملکی بھی اس دلکش شہر میں کتنی آسانی سے گھوم پھر سکتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پورے شہر میں دو زبانوں میں لکھی گئی رہنمائی کی تختیاں موجود ہیں۔ اس لئے آپ چھونگ چھنگ جیسے منفرد کثیر سطحی شہر میں راستہ بھول جانے کی فکر مت کیجئے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): جون شیاؤ، چھونگ چھنگ میں زیرِ تعلیم برازیل کا طالبعلم
’’تو یہ ہے ہونگ یا دونگ۔ یہ منظر کسی خواب کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ چٹان پر تعمیر کئے گئے قدیم طرز کے مکانات دریا کے بالکل کنارے واقع ہیں۔ تعطیلات یا انتہائی مصروف اختتامِ ہفتہ پر جب رش بہت بڑھ جاتا ہے تو شہر کی انتظامیہ ایک منفرد اقدام کرتی ہے۔ پل پر گاڑیوں کا داخلہ مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے۔کوئی ٹریفک نہیں ہوتی اور گاڑیوں کی مخصوص لینیں پیدل چلنے والوں کے لئے کھول دی جاتی ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): جون شیاؤ، چھونگ چھنگ میں زیرِ تعلیم برازیل کا طالبعلم
’’اب میں نے گھر واپس جانا ہے۔ اس مقصد کے لئے میرے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا میٹرو ہے۔ قریب ترین میٹرو اسٹیشن یہاں سے صرف پانچ منٹ کی پیدل دُوری پر ہے۔ میٹرو رات گیارہ بجے تک چلتی ہے۔ یہ صاف ستھری، کم خرچ اور آرام دہ ہے جبکہ ہر اسٹیشن پر سکیورٹی چیک کی جاتی ہے تاکہ سب کچھ محفوظ رہے۔
دوسرا آپشن دِیدی ہے جسے چین کی اُوبر کہا جا سکتا ہے۔ میں ایپ کھولتا ہوں، جہاں میں نے جانا ہوتا ہے وہ منزل درج کرتا ہوں ۔صرف دو منٹ کے اندر گاڑی آ جاتی ہے۔ پورا سفر ٹریک کیا جاتا ہے۔ میں اپنی لوکیشن دوستوں کے ساتھ شیئر کر سکتا ہوں۔ ہنگامی صورتحال کے لئے ایک خصوصی بٹن بھی موجود ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مجھے کبھی اسے استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔”
ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): جون شیاؤ، چھونگ چھنگ میں زیرِ تعلیم برازیل کا طالبعلم
’’اب میں اپنے علاقے ’بے بے‘ واپس آ گیا ہوں۔ آپ دیکھ لیں کہ لوگ باہر چہل قدمی کر رہے ہیں، دوڑ لگا رہے ہیں اور رات کے وقت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ یہ ایک محفوظ مقام ہے۔‘‘
چھونگ چھنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


