ہومتازہ ترینچین میانمار ووشو کھیل کے  تبادلوں سے عوامی تعلقات مضبوط

چین میانمار ووشو کھیل کے  تبادلوں سے عوامی تعلقات مضبوط

چینی مارشل آرٹ ’وُوشُو‘ جو اپنی دلکش حرکات اور شاندار جسمانی مہارت کے کے حوالے سے جانا جاتا ہےاب میانمار میں محض ایک مقابلہ جاتی کھیل نہیں رہا بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران یہ ثقافتی تبادلوں اور عوامی سفارت کاری کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا ہے جو مشترکہ نظم و ضبط، تربیت اور باہمی احترام کے ذریعے میانمار اور چین کو ایک دوسرے سے جوڑ رہا ہے۔

اس کھیل سے وابستہ کھلاڑیوں اور کوچز کے لئے وُوشُو صرف تکنیکی مہارت کا نام نہیں بلکہ ایک تاریخی ورثہ بھی ہے۔ اب اسے مختلف برادریوں کے درمیان رابطے کے ایک مضبوط پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا رابطہ پُل ہے جو نہ صرف کھیلوں کے میدان میں کیریئر سنوار رہا ہے بلکہ میانمار اور چین کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

آئندہ جنوب مشرقی ایشیائی کھیلوں (سی گیمز) کے لئے میانمار کی قومی وُوشُو ٹیم کی موجودہ کوچ آئے تھِت سار مینت کی اِس کھیل سے وابستگی کا سفر سال 2003 میں غیر متوقع طور پر اُن کےبچپن کے دوران ہی یانگون میں شروع ہو گیا تھا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (میانماری): آئے تھِت سار مینت، کوچ، قومی ووشو ٹیم، میانمار

’’مجھے بچپن سے ہی کسی کھیل میں حصہ لینے کا شوق تھا۔ اس لئے میرے خاندان نے میرا داخلہ وُوشُو کے تربیتی پروگرام میں کرا دیا۔ میں مشق کرتی رہی ۔میری دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہوا اور پھر کچھ وقت بعد یہی دلچسپی اس کھیل سےسچی لگن میں تبدیل ہو گئی۔‘‘

سال 2015 میں آئے تھِت سار مینت سی گیمز کی تیاری کے سلسلے میں تین ماہ کے مشترکہ تربیتی سیشن میں حصہ لینے چین کے صوبہ انہوئی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ چینی کوچز تربیت کے دوران کہیں زیادہ مشکل معیار مقرر کرتے تھے اور مشق بھی نہایت سخت ہوتی تھی۔ اس تجربے نے ان کی سوچ کو وسعت دی اور انہیں اعلیٰ درجے کی حکمتِ عملی اور تکنیکی مہارتوں پر عبور حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس سخت تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اسی سال انہوں نے سی گیمز میں دو طلائی تمغے اپنے نام کر لئے۔

آئے تھِت سار مینت اکثر اپنے نوجوان شاگردوں کو چین میں گزارے گئے دنوں کے تجربات سناتی ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کو چین میں قیام کے دوران کے کھانوں، سخت تربیتی معمولات اور اپنے تجربات سے آگاہ کرتی ہیں تاکہ ان کی سوچ ایک ایسی وسیع دنیا سے آشنا ہو جسے وہ ابھی تک نہیں دیکھ سکے۔ وہ اپنے چینی کوچز سے سیکھی ہوئے تربیتی تکنیکوں کے ذریعے میانمار کی نئی نسل کو ذہنی طور پر مضبوط اور ثابت قدم بنا رہی ہیں۔

آئے تھِت سار مینت کی شاگردوں میں سے ایک 21 سالہ کھائنگ ساندار سوئے کا تعلق ریاست کاچن کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے سے ہے۔ انہوں نے وُوشُو کی بدولت اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں بتایا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (میانماری): کھائنگ ساندار سوئے، وُوشُو کھلاڑی

’’وُوشُو کی تربیت شروع کرنے سے پہلے مجھ میں زیادہ خوداعتمادی نہیں تھی لیکن اس کھیل سے وابستہ ہونے کے بعد میرے اعتماد میں بہت اضافہ ہوا۔

وُوشُو ایسا کھیل ہے جو انفرادی طور پر بھی کھیلا جا سکتا ہے اور ساتھی کے ساتھ بھی۔ اس لئے اس نے مجھے خوداعتمادی کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک بھی سکھایا ہے۔ تربیت اور مقابلے کے ذریعے مجھے محسوس ہوا کہ میری خوداعتمادی میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔‘‘

اسی طرح ماندالے ریجن سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ساو ہتون نائنگ نے بھی اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار کیا۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (میانماری): ساو ہتون نائنگ، وُوشُو کھلاڑی

’’وُوشُو کی تربیت سے میری زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی میری سوچ میں آئی ہے۔ میری ذہنی مضبوطی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

جو شخص پہلے نرم مزاج اور کمزور ارادوں کا حامل ہوتا ہے وہ وُوشُو کی تربیت کے بعد کہیں زیادہ مضبوط اور ذہنی طور پر ثابت قدم بن جاتا ہے۔‘‘

یانگون، میانمار سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں