اسلام آباد (لارڈ میڈیا): نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت سے رابطے کیے اور پس پردہ سفارت کاری کی قیادت کی جس کی بدولت یہ معاہدہ ممکن ہوا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے چھ ادوار پر مشتمل پیچیدہ مذاکرات کے دوران مکمل رازداری برقرار رکھی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت کرنے والا پاکستان واحد مسلم ملک تھا، جس کے بعد سفارتی کوششوں کا آغاز ہوا۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بحران کے دوران پاکستانی حکام نے دنیا بھر کے وزرائے خارجہ سے 152 سفارتی رابطے کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران کئی مواقع پر سفارتی عمل ناکامی کے قریب پہنچ گیا، خصوصاً ایران کے جوابی حملوں کے بعد۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی سفارت کاروں نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا اور مزید فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان سفارتی کوششوں کا نتیجہ اسلام آباد ایم او یو کی صورت میں سامنے آیا، جس نے امریکا اور ایران کے درمیان 47 برس بعد پہلی براہ راست اعلیٰ سطحی ملاقات کی راہ ہموار کی۔ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہوئی۔


