ہومتازہ ترینصحرا پر کنٹرول میں چین کی حوصلہ افزا کوششیں عالمی رضاکاروں کی...

صحرا پر کنٹرول میں چین کی حوصلہ افزا کوششیں عالمی رضاکاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں

چین میں صحرائی علاقوں کو سرسبز بنانے کی علمبردار یِن یُوژین نے ایک امریکی معاون رونالڈ ساکولسکی کو انٹرنیٹ کے ذریعے بیس سال بعد تلاش کر لیا ہے۔ یِن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو دونوں کے درمیان دوبارہ رابطہ قائم ہوا۔ اب ساکولسکی رواں برس اگست میں اس جنگل کا دورہ کریں گے جو یِن یُوژین نے ان کے عطیہ کی گئی رقم سے لگایا تھا۔ آج دنیا بھر کے رضاکار چین کی شجرکاری مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): یِن یُوژین، نگہبان، صحرائی شجرکاری

’’آپ تو میرے ایک بھائی ہیں! ہیلو!‘‘

یِن یُوژین چین کے چوتھے سب سے بڑے ریتیلےعلاقے ماؤوسو میں خدمات انجام دینے والی قومی سطح کی ایک مثالی کارکن ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر ایک ایسے امریکی مددگار کو تلاش کرنا شروع کیا جس نے 20 برس سے زیادہ عرصہ قبل اُن کی مدد کی تھی۔

سال 1999 میں رونالڈ ساکولسکی چین کے شہر لوویانگ کے ایک سکول میں تدریس کر رہے تھے۔

یِن کی کوششوں کے بارے میں ٹیلی ویژن پر ایک رپورٹ دیکھنے کے بعد انہوں نے 5 ہزار امریکی ڈالر عطیہ کئے تھے۔

اب یِن چاہتی ہیں کہ ساکولسکی کو اپنے ہاں بلائیں تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے صحرا کی تبدیلی دیکھ سکیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): یِن یُوژین، نگہبان، صحرائی شجرکاری

’’ہیلو، مسٹر ساکولسکی۔ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو میں آپ کو ایک خصوصی دعوت دینا چاہتی ہوں کہ آپ چین واپس آئیں اور اس سبز جنگل کو خود دیکھیں جو اس وقت آپ کی فراہم کردہ رقم سے لگایا گیا تھا۔‘‘

یِن کی ویڈیو چینی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ساکولسکی کے ایک سابق اسکول ساتھی نے دونوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں مدد فراہم کی۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): رونالڈ ساکولسکی کی آواز

’’یِن یُوژین، یہ حیران کُن ہے۔ میرے لئے یہ بہت زیادہ تعجب کی بات ہے۔ مجھے تو ابھی تک یقین ہی نہیں آ رہا کہ ہم ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں دوبارہ ان سے گفتگو کروں گا۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): یِن یُوژین، نگہبان، صحرائی شجرکاری

’’آپ اُن امریکی ڈالرز کو یاد کیجئے جو آپ نے اُس وقت عطیہ کئے تھے۔ میں نے اِنہیں آپ کے لئے ایک جنگل میں بدل دیا ہے۔ آپ کب آئیں گے اور اسے دیکھیں گے؟ میں واقعی آپ سے دوبارہ ملنا چاہتی ہوں۔‘‘

ساکولسکی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ رواں برس اگست میں اپنے بچوں کے ساتھ اس جنگل کا دورہ کریں گے۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی اور چینی): رونالڈ ساکولسکی کی آواز

’’میں ضرور کوشش کروں گا۔ میں آپ کے ساتھ ایک درخت لگانا چاہتا ہوں۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): یِن یُوژین، نگہبان، صحرائی شجرکاری

’’میں صحرا میں آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔‘‘

صحرائی پھیلاؤ کے خلاف یِن کی کئی دہائیوں پر محیط جدوجہد چین میں وسیع پیمانے پر جاری ماحولیاتی تبدیلی کی ایک جھلک ہے۔

اس وقت چین میں بحالی کے قابل ریتلی زمین کا 53 فیصد حصہ درخت لگا کر مؤثر طور پر منظم کیا جا چکا ہے۔

چین نہ صرف دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے زمین کی خرابی میں کوئی اضافہ نہیں ہونے دیا اور اس کے ساتھ ساتھ صحرائی اور ریتلی زمین کے رقبے میں ’’دوہری کمی‘‘ کا ہدف بھی حاصل کر لیا ہے بلکہ اب اُس نے صحرائی پھیلاؤ سے نمٹنے کے لئے عالمی امداد حاصل کرنے کے بجائےعالمی ماحولیاتی حکمرانی میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے والے ملک کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔

چین کی شجرکاری مہم آج یِن یُوژین جیسے مقامی کسانوں کے علاوہ ماحول دوست رضاکاروں، خصوصاً شہری نوجوانوں اور بین الاقوامی طلبہ کی بڑی تعداد کو بھی اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 7 (چینی): میری فیتوسی، فرانسیسی رضاکار

’’میں فرانس سے آئی ہوں۔ آج میں مِن چھن کاؤنٹی میں دنیا بھر سے آنے والے دوستوں کے ساتھ مل کر صحرا میں درخت لگا رہی ہوں۔ اپنے مشترکہ گھر کے تحفظ میں ساتھ دینے والے ہر شخص کو ہماری طرف سے خوش آمدید ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 8 (انگریزی): جیمز جارج، قائم مقام نمائندہ، یو این ڈی پی، چین

’’صحرائی پھیلاؤ صرف چین کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک کے لئے ایک عالمی چیلنج ہے۔ صحرائی پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم یہاں صحرا میں دیکھ رہے ہیں کہ مقامی برادریاں حکومت کے ساتھ مل کر صحرائی پھیلاؤ سے نمٹنے کے حل تلاش کر رہی ہیں۔‘‘

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں