بیجنگ (شِنہوا) مصنوعی ذہانت تیزی سے چین کی صنعتی تبدیلی کے لئے ترقی کا ایک قابل اعتماد محرک بنتی جا رہی ہے۔ کارخانوں اور کان کنی سے کلاس رومز اور ہسپتالوں تک مصنوعی ذہانت کے نت نئے استعمال سے نہ صرف کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ یہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کا منظر نامہ بھی بدل رہی ہے۔
2026 کی عالمی اے آئی کانفرنس (ڈبلیو اے آئی سی) اور مصنوعی ذہانت کے عالمی گورننس کے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس 17 سے 20 جولائی تک شنگھائی میں منعقد ہونے جا رہے ہیں جہاں سرکاری حکام اور صنعتی رہنما مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔
یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ 2025 میں چین کی بنیادی مصنوعی ذہانت کی صنعت کا حجم 12 کھرب یوآن (تقریباً 176.7 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گیا تھا اور اس شعبے میں 6 ہزار 200 سے زائد کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ چین کے 30 فیصد سے زائد بڑے صنعتی اداروں نے اے آئی کو اپنا لیا ہے جبکہ جدید سمارٹ کارخانوں نے اپنی 70 فیصد سے زائد سرگرمیوں میں اس ٹیکنالوجی کو شامل کر لیا ہے۔
چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ کے دارالحکومت شین یانگ میں واقع ٹی بی ای اے شین یانگ ٹرانسفارمر گروپ میں دو کارخانے متوازی طور پر کام کر رہے ہیں، ایک کارخانے میں روبوٹک بازو اور خود کار گاڑیاں آپریٹرز کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں اور دوسرا ورچوئل کارخانہ ہے جہاں سیمولیشن سسٹمز پیداواری شیڈول کی تصدیق کرتے ہیں تاکہ آزمائشی مراحل کی ضرورت کم سے کم کی جا سکے۔
کمپنی کے عمل اور ڈیجیٹل انتظام کے سربراہ شو لین لین نے بتایا کہ عملی نقل، نظام الاوقات، عملدرآمد اور نگرانی پر مشتمل اس ذہین نظام نے مصنوعات کی تیاری کا دورانیہ 21 فیصد تک کم کر دیا اور کارکردگی میں 40 فیصد اضافہ کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت روایتی صنعتوں کے دیرینہ مسائل بھی حل کر رہی ہے۔ کان کنی کی صنعت کے لئے خود کار ڈرائیونگ کے حل فراہم کرنے والی کمپنی ‘ایکون مائننگ ٹیکنالوجی’ کا کہنا ہے کہ سخت سردی، شدید گرمی اور بلندی والے مقامات پر کام کرنے کے قابل اس کا نظام 40 سے زائد کانوں میں نصب کیا گیا ہے جو روزانہ 3 ہزار 100 سے زائد خود کار ٹرک چلانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
چین کا انسان نما روبوٹس کا شعبہ ہر سال 50 فیصد سے زائد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ 28 جون کو چینی مجسم اے آئی کمپنی ‘ایجی بوٹ’ نے اپنا 15 ہزار واں روبوٹ تیار کیا جسے پیداواری استعمال کے لئے براہ راست شنگھائی کے ایک کارخانے میں بھیج دیا گیا۔
وزارت صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ڈپٹی ڈائریکٹر گان شیاؤبن نے بتایا کہ توقع ہے اس سال چین میں انسانی نما روبوٹس کی سالانہ پیداوار ایک لاکھ یونٹس سے تجاوز کر جائے گی۔


