اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ کے اعداد و شمار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، بلکہ صرف غلط تشریح کے نتیجے میں یہ تاثر دیا گیا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی بیشتر سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ مالی سال 2018 کے اعداد و شمار بھی چارٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سلیم مانڈوی والا، نوید قمر اور کمیٹیوں نے بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا۔ بجٹ میں تعاون پر اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی اشاریوں کو بہتر بنایا گیا ہے۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 6 فیصد کی گروتھ ہوئی ہے۔ ایکسپورٹس بہتری کی جانب گامزن ہیں اور آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ فری لانسرز نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے اور تارکین وطن نے ریکارڈ ترسیلات بھجوائیں ہیں۔ ترسیلات زر کا 41 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کی امید ہے۔ فری لانسرز نے ایک سال میں 1.6 ارب ڈالر زرمبادلہ کمایا۔ فصلوں کی انشورنس کے لئے 1.7 ارب روپے اور زرعی کولڈ اسٹوریج کے لئے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مزید کہا کہ ہاؤسنگ و کنسٹرکشن شعبے کے ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے۔ جان بچانے والی ادویات پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی بیشتر سفارشات بجٹ کا حصہ بنائی جا رہی ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو 5 ارب روپے کی بچت پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ نے بھی اپنے اخراجات میں ایک ارب روپے کی کمی کی ہے۔


