سائبیریا (لارڈ میڈیا): سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین طاعون کی وبا تقریباً 5500 سال قبل سائبیریا کے جھیل بائیکال کے اطراف پھیلی تھی، جو خاص طور پر بچوں اور کم عمر نوجوانوں کو متاثر کر رہی تھی۔ بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے جھیل بائیکال کے قریب چار قدیم قبرستانوں سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے تجزیہ کیا، جس میں یرسینیا پیسٹس بیکٹیریا کے آثار ملے۔
تحقیق کے مطابق، شکار کرنے والے انسان چھوٹے گروہوں کی صورت میں رہتے تھے اور مارموٹ جانوروں سے بیماری انسانوں میں منتقل ہوئی۔ یونیورسٹی آف کوپن ہیگن اور یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت طاعون کی ابتدا اور انسانی تاریخ پر اس کے اثرات کے حوالے سے موجود تصورات کو بدل دیتی ہے۔
اس سے پہلے طاعون کا قدیم ترین معلوم ثبوت تقریباً 5300 سال قبل موجودہ لیٹویا میں ملا تھا، لیکن نئی دریافت اس سے بھی پرانی ہے۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے متاثرہ افراد کے دانتوں سے طاعون کے جراثیم کا جینیاتی مواد حاصل کیا۔ ان میں ایک منفرد جینیاتی خصوصیت پائی گئی جو بچوں میں شدید سوزش اور پیچیدگیاں پیدا کر سکتی تھی۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے اور ماہرین کے مطابق اس سے انسانی تاریخ کی قدیم ترین وباؤں اور ان کے اثرات کو سمجھنے میں اہم مدد ملے گی۔


