اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاق کے 50 سے زائد اداروں کے ملازمین کو اضافی مراعات کے ساتھ بھاری تنخواہیں دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بعض ملازمین کی مجموعی تنخواہیں عام سرکاری محکموں کے افسران کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا زیادہ ہیں۔ ان اداروں میں صدر سیکرٹریٹ، وزیراعظم آفس، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، سینیٹ سیکرٹریٹ، اعلیٰ عدالتیں، قومی احتساب بیورو، انٹیلی جنس ادارے، ٹیکس حکام اور مختلف ٹربیونلز شامل ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ ملازمین کی یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔ زیادہ مراعات والے اداروں میں خصوصی تعلیمی، بحالی، صحت کے ادارے، پولیس تنظیمیں اور خودمختار ادارے بھی شامل ہیں۔ وفاقی حکومت مختلف وجوہات کی بنیاد پر منتخب اداروں کو خصوصی الاؤنسز دیتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد تنخواہی نظام قائم ہوگئے ہیں۔
ایک عام وزارت میں گریڈ 20 کا افسر خصوصی الاؤنسز والے ادارے کے افسر کے مقابلے میں کم تنخواہ پاتا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ صورتحال یکساں بنیادی تنخواہ کے نظام کو متاثر کرتی ہے، جسے کئی بیوروکریٹس ‘حکومت کے اندر حکومت’ قرار دیتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے وفاقی سیکرٹریٹ ملازمین کے لیے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس متعارف کرایا تھا، لیکن زیادہ تر سرکاری ملازمین اس سے محروم رہے۔


