بیجنگ (شِنہوا) چین اس سال جولائی میں شنگھائی میں "عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026” اور "عالمی مصنوعی ذہانت نظم و نسق پر اعلیٰ سطح کے اجلاس” کا انعقاد کرے گا۔
نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے ڈپٹی ہیڈ ژو ہائی بنگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اس کانفرنس کو تمام شراکت داروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون مزید مستحکم کرنے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔
ژو نے کہا مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق کا تعلق بنی نوع انسان کے مستقبل سے ہے اور یہ ایک ایسا مشترکہ مسئلہ ہے جس کا سامنا تمام ممالک کو ہے۔ چین کثیرالجہتی، کھلے پن اور جامعیت کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے نظم و نسق اور باہمی تعاون کو فروغ دے رہا ہے تاکہ اس ذہین دور میں عالمی ترقی کے لئے چینی تجربات اور حل پیش کئے جا سکیں۔
مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے چین ترقی اور سلامتی کی کوششوں کو مربوط کرے گا، فعال طور پر کثیرالجہتی نظام پر عمل کرے گا اور اس اصول کو برقرار رکھے گا کہ انسانوں کو مرکزیت حاصل ہو اور مصنوعی ذہانت کو فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین ایک بڑی عالمی طاقت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے جڑے خطرات کی روک تھام، ضابطہ اخلاق کی تشکیل اور مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کے لئے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم رکھتا ہے۔


