بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت عوامی تحفظ نے کہا ہے کہ چینی پولیس نے کمبوڈیا سے ایک بڑے جرائم پیشہ گروہ کے اہم رکن کو واپس چین منتقل کر لیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بڑھتے ہوئے تعاون کا تازہ ترین نتیجہ ہے۔
وزارت کے مطابق جرائم پیشہ گروہ کے سربراہ چھن ژی کے قریبی ساتھی لیو رین کو کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ سے چینی پولیس کے ایک خصوصی دستے نے کمبوڈین حکام کے بھرپور تعاون سے چین منتقل کیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 2016 میں چھن ژی نے لیو رین اور دیگر افراد کو کمبوڈیا میں جن بی گروپ قائم کرنے کی ہدایت دی تھی، جہاں انہوں نے چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے آن لائن جوئے کے متعدد پلیٹ فارمز چلائے۔
وزارت کے مطابق 2020 سے اس گروہ نے مبینہ طور پر کمبوڈیا میں ٹیلی کام فراڈ کے مراکز بھی قائم کئے، جہاں بڑے پیمانے پر آن لائن اور ٹیلی فونک دھوکہ دہی کی کارروائیاں کی گئیں، جن میں غیر معمولی طور پر بڑی مالی رقوم شامل تھیں۔
وزارت نے بتایا کہ لیو رین پر غیر قانونی حراست، تشدد اور دیگر سنگین پرتشدد جرائم میں ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے۔ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
چین اور کمبوڈیا نے رواں سال کمبوڈیا سے چلائے جانے والے ان ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے، جو چینی شہریوں کو نشانہ بناتے تھے۔
وزارت کے مطابق دونوں ممالک نے مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے ٹیلی کام فراڈ پارکس اور دھوکہ دہی کے اڈوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے، جبکہ ان جرائم کے بڑے مالی معاونین اور مرکزی ارکان کا بھی تعاقب کیا گیا، جس سے ایسے جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اب تک کمبوڈین حکام ٹیلی کام فراڈ کے 20 ہزار سے زائد مشتبہ افراد چین واپس بھیج چکے ہیں، جن میں قتل کے مقدمات میں مطلوب کئی ملزمان بھی شامل ہیں۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چینی پولیس سرحد پار ٹیلی کام اور آن لائن فراڈ کے جرائم کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے گی، متعلقہ ممالک کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو مزید گہرا کرے گی اور مشترکہ آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کے اقدامات کو آگے بڑھائے گی۔


