واشنگٹن (شِنہوا) امریکی حکام نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مکمل متن جاری کر دیا ہے، مفاہمتی یادداشت پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے ہفتے کے آخر میں تیار ہونے والی اس دستاویز کا مسودہ کئی روز تک خفیہ رکھنے کے بعد صحافیوں کو فراہم کیا۔
سی این این کی جانب سے شائع کردہ مفاہمتی یادداشت کے متن کے مطابق امریکہ اور ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں گے۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔
سی این این کی ویب سائٹ پر شائع شدہ متن کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ فوری طور پر ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کرے گا جبکہ ایران نے دوبارہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ ہی انہیں تیار کرے گا۔
واشنگٹن نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ خطے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لئے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر مالیت کے منصوبے پر کام کرے گا۔
مسودہ دستاویز کے مطابق حتمی معاہدہ طے پانے تک دونوں فریق موجودہ صورتحال برقرار رکھنے اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ اس دوران ایران اپنا جوہری پروگرام موجودہ حالت میں برقرار رکھے گا جبکہ امریکہ کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے میں اضافی فوجی دستے تعینات کرے گا۔
مفاہمتی یادداشت کی آخری شق کے مطابق حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی جائے گی، جس پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔
امریکہ اور ایران نے پیر کے روز الیکٹرانک طریقے سے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے جبکہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کی جھیل لوسرن کے کنارے واقع ایک تفریحی مقام پر اس پر باضابطہ دستخط کئے جائیں گے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر آئی بی نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس دستاویز پر دونوں ممالک کے صدور بھی دستخط کر سکتے ہیں۔


